سانحہ سیالکوٹ

سماء نیوز  |  Dec 05, 2021

سیالکوٹ میں بربریت اور انسانی بے حسی کی انتہا ہو گئی جب مقامی فیکٹری میں سری لنکا سے تعلق رکھنے والے مینجر کو توہین مذہب کے نام پر شرپسندوں کے جتھے نے سرعام تشدد کا نشانہ بنایا یہی نہیں انسانیت اور قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوۓ سڑک پر اس نہتے انسان کو زندہ جلا دیا۔

موقع پر موجود لوگوں نے اسٹریٹ جسٹس کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی تحقیق یا مقدمے کے بغیر ہی فیکٹری منیجر زندہ جلا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کے انہوں نے جمعہ کے روز فیکٹری منیجر کو قران پاک کے اوراق نذر آتش کرتے دیکھا تھا۔ اس الزام پر تحقیق ہونے کی بجائے اس منیجر کو وہیں پرتشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ہجوم نے سڑک پر ہی مار ڈالا ۔

ایسے کسی بھی الزام پر قانونی کارروائی کی ضرورت تھی نہ کہ قانون خود قانون ہاتھ میں لیکر خود ہی منصف اور خود ہی جلاد بن کر سزا دینے کی۔

اس واقعہ نے قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ۔ یہ کیسا معاشرہ اور کیسا نظام عدل ہے جہاں کوئی بھی ہجوم کسی پر الزام لگا کر خود ہی کسی کو قتل کرکے اسے جلا دے۔

یہ معاشرے میں قانون کی کمزور گرفت کی عکاسی کرتا ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نااہلی سے ایسے خوفناک واقعات جنم لیتے ہیں۔

دین اسلام امن کا مذہب ہے جو انسانیت کا درس دیتا ہے۔ ہمارے مذہب میں تو جانوروں کو نقصان پہنچانے اور درختوں کو بلاوجہ کاٹنے تک سے منع کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس رحمت العلمین ﷺ تھے جنہوں نے ہمیشہ رحم اور شفقت کی تعلیم دی۔

شرپسندوں کا دین اسلام کی آڑ میں ایسے گھناؤنے جرائم کرنا کسی صورت بھی قابل قبول نہیں اور اس پر سخت قانونی کارروائی ہونا چاہیے۔ کسی بھی شخص کا خود کو خدائی فوجدار سمجھتے ہوئے کسی کی جان لینا باعث شرم ہے۔

وزیراعظم اور ان کے وزراء کا اس اندوہناک واقعہ پر صرف سماجی رابطہ کی سائٹس پر غم وغصہ کی ٹویٹس کردینا کافی نہیں بلکہ اس معاملے کی منصفانہ تحقیق کرنے اور اس کے ذمہ داران کو کڑی سزا دینے کی ضرورت ہے۔

اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ان واقعات کے تدارک کے لیے قانون سازی کی جائے اور اس کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان قوانین پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنائیں تاکہ ایسے واقعات پھر کبھی جنم نہ لیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More