’پاکستان کے طول و عرض میں لوگ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں‘

بول نیوز  |  Jan 16, 2022

پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کے طول و عرض میں لوگ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔

خواجہ محمد آصف نے سیالکوٹ میں ورکرز کنونشن سے حطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سے ساڑھے 3 سال قبل آپ کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا تھا، اسی ڈاکے کے اثرات پوری قوم بھگت رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انکو اقتدار میں لانے والے بھی اپنے ہاتھوں کو کاٹ رہے ہیں، پاکستان کے طول و عرض میں لوگ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ  قاتل بجٹ کو روکنے کی بہت کوشش کی، بجٹ پاس ہونے کے چند گھنٹوں میں بجلی، تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ گئیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ عمران خان کو فنانس کرنے والے لوگ پوری قوم سے قیمت وصول کر رہے ہیں، انہوں نے اپنے فنانسروں کو قوم کو لوٹنے کی کھلی چھٹی دی ہوئی ہے۔

انکا کہنا ہے کہ ملکی حالات وقت کے ساتھ ساتھ گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں، آج ملک و ملت اور 22 کڑور عوام کی کوئی حیثیت نہیں ہے، یہ ساڑھے 3 سال کا جو عرصہ گزرا ہے انکا بہت جلد احتتام ہو جائے گا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ  میاں نواز شریف کا بیانیہ کہ ووٹ کو عزت دینے کا مطلب ہے کہ قانون کی حکمرانی ہو، چور دروازوں سے قانون کی خلاف ورزی کرکے اقتداروں میں آنے والوں کی مثال عمران خان ہے ۔

ن لیگ کے رہنما کا کہنا ہے کہ آج عمران خان ہمارا اس لئے حکمران ہے کیونکہ ہم اپنے مکی مقاصد سے ہٹ چکے ہیں، ہمارے ملک میں غربا اور اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ہر الیکشن میں ہمارے حقوق اور ووٹوں کو چوری کر لیا جاتا ہے، لیکن اس دفعہ ہم اپنے مینڈیٹ کا دفاع کریں گے۔

انکا کہنا ہے کہ نواز شریف کا دور ترقیبکا دور تھا لوگوں خوشحال تھے، لیکن نئے پاکستان کے خواب نے سب کچھ تباہ کردیا، جولائی 2018 میں جو ہوا آج ہمارا بچہ بچہ اس کی قیمت ادا کر رہا ہے۔

خواجہ محمد آصف نے کہا کہ عمران خان کہتا تھا کہ قرض نہیں لوں گا خودکشی کر لوں گا، آج ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ قرض لئے گئے لیکن اب خودکشی کرنے کے لئے غیرت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی پارٹی میں بہت زیادہ دڑاریں پڑ چکی ہیں، پی ٹی آئی کے لوگ بھی عمران خان کی جان کو رو رہے ہیں، اللہ کا شکر ہے ساڑھے 3 سال میں ہی انکا اصلی چہرہ سامنے آگیا ہے۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More