کراچی: 8 سالہ بچے کے ریپ اور قتل میں ملوث ملزمان گرفتار

سماء نیوز  |  Jan 19, 2022

کراچی کے علاقے نیو کراچی سیکٹر 11 ڈی میں پولیس نے 8 سالہ بچے کو اغواء، ریپ اور قتل کرنے پر ایک ملزم اور اسکے دو ساتھیوں کو گرفتار کر لیا۔

ویسٹ زون کے ڈی آئی جی پی ناصر آفتاب نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم جو کہ شکایت کنندہ کا کزن ہے، نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر مقتول بچے کے والد سے تذلیل کا بدلہ لینے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔

ناصر آفتاب کے مطابق ملزمان منشیات کے عادی ہیں اور مقتول بچے کے والد نے دیگر علاقہ مکینوں کے ساتھ مل کر ملزمان کو کھلے عام منشیات کا استعمال کرنے پر منع کیا تھا۔

کیس کا پس منظر

آٹھ سالہ مقتول عبدالرحمان نیو کراچی سیکٹر 11 ڈی کا رہائشی تھا جوکہ 4 جنوری کو لاپتہ ہوگیا تھا۔ نیو کراچی پولیس نے بچے کے والد آصف کی درخواست پر گمشدگی کی شکایت پر مقدمہ نمبر 20/2022 درج کیا۔ آصف نے پولیس کو بتایا کہ عبدالرحمان باہر سے کھانے کے لیے کچھ خریدنے گیا لیکن نامعلوم افراد نے اسے اغوا کرلیا۔

پولیس نے تفتیش شروع کر دی اور 5 جنوری کو نیو کراچی پولیس کو ہیلپ لائن 15مددگار سے کال موصول ہوئی جس پر بتایا گیا کہ صدیق آباد قبرستان سے ایک لڑکے کی لاش ملی ہے۔ پولیس کی ایک ٹیم قبرستان پہنچی تو دیکھا کہ عبدالرحمان کی لاش ابدال شاہ کے مزار کے احاطے میں پڑی ہے۔ شواہد اکٹھے کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ (سی ایس یو) کو بلایا گیا جہاں معائنہ کے دوران جائے وقوعہ سے سگریٹ کا فلٹر، جلے ہوئے کاغذات اور ٹوٹی ایل ای ڈی لائٹس ملی۔

مزار کے احاطے کے اندر، پولیس کو ایک درخت کے نیچے چپل اور کھانے کی اشیاء ملیں۔ والد آصف نے بیٹے عبدالرحمان کی لاش کی شناخت کی جس کے بعد لاش پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دی گئی۔ میڈیکو لیگل ایگزامینر نے اپنے نتائج میں اس بات کی تصدیق کی کہ لڑکے کو گلا دبا کر قتل کرنے سے پہلے اس کا ریپ کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے متوفی کے گھر کا دورہ کیا اور مکینوں کے بیانات قلمبند کیے۔

دورے کے دوران، پولیس نے مشاہدہ کیا کہ منشیات کے عادی افراد اس علاقے میں منشیات استعمال کرنے کے لیے آتے تھے لیکن علاقہ مکین نشے کے عادی افراد کے نام بتانے کو تیار نہیں تھے۔

دوسری جانب مقتول عبدالرحمان کے والد اور اہل خانہ نے کسی پر شک نہیں کیا جبکہ پولیس نے قبرستان کی طرف جانے والی سڑکوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کیں اور عبدالرحمان کی رہائش گاہ کے علاقے کی سی سی ٹی وی بھی حاصل کی گئیں لیکن پولیس کو کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

پولیس نے مقتول عبدالرحمان کی رہائش گاہ اور قبرستان کی جیو فینسنگ کی تاہم وہ دوبارہ ملزمان کا سراغ لگانے میں ناکام رہی۔

ویسٹ زون کے ڈی آئی جی پی ناصر آفتاب نے اس کیس کو حل کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ سینٹرل کے ایس ایس پی ملک مرتضیٰ تبسم کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی، جس نے علاقے سے 11 گورکن اور چھ منشیات فروشوں کو گرفتار کر کے پوچھ گچھ کی۔

دوران تفتیش ملزم عامر ولد اقبال جو کہ شکایت کنندہ کا کزن ہے نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنے دو ساتھیوں ندیم ولد عبدالرب اور جواد ولد عبدالمجید کے ساتھ مل کر عبدالرحمان کا اجتماعی ریپ کیا اور بعد میں گلا دبا کر قتل کر دیا۔

ملزم عامر نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے ساتھیوں ندیم اور جواد کے ساتھ عبدالرحمان کی رہائش گاہ کے باہر بیٹھا تھا کہ انہوں نے بچے کو اپنے گھر سے کھانے کی اشیاء خریدنے کے لیے نکلتے ہوئے دیکھا، اسی وقت ملزمان نے عبدالرحمان کو اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا لیا۔

عبدالرحمان ساتھ جانے سے انکار نہیں کرتا کیونکہ وہ ملزم عامر کو جانتا تھا، جو رشتہ میں اس کا چچا ہے۔ وہ بچے کو پہلے خمیسو گوٹھ لے گئے جہاں انہوں نے منشیات خریدی اور اسکے بعد قبرستان لے گئے جہاں انہوں نے ایک ایک کرکے بچے کا ریپ کیا اور آخر کار گلا دبا کر قتل کر دیا۔

ملزم عامر نے پولیس کو بتایا کہ وہ منشیات کا عادی ہے جبکہ وہ اور اس کا دوست علاقے میں منشیات کا استعمال کرتے ہیں، علاقہ مکینوں بشمول عبدالرحمان کے والد اور اس کے چچا سلطان نے اسے اور اس کے دوستوں کو علاقے میں منشیات استعمال کرنے پر روکا تھا جس پر ملزم اور بچے کے والد میں جھگڑا بھی ہوا اور بچے کے والد نے اسے مارا پیٹا۔

ملزم کے مطابق عبدالرحمان کے والد سے بدلہ لینے کے لیے انہوں نے بچے کو اغوا کرکے ریپ کیا اور گلا دبا کر قتل کر دیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More