ماہرین فلکیات نے کہکشاں کے مرکز میں پائے جانے والے بلیک ہول کی تصویر جاری کر دی

ڈی ڈبلیو اردو  |  May 13, 2022

ماہرین فلکیات کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے 12 مئی جمعرات کے روز ہماری اپنی کہکشاں کے مرکز میں پائے گئے 'سیجیٹیریئس اے٭' نامی انتہائی بڑے بلیک ہول (سیاہ سوراخ) کی پہلی واضح تصویر جاری کر دی ہے۔ تین برس قبل ایک دوسری کہکشاں کے اندر موجود ایک اور بلیک ہول کی پہلی تصویر بہت فاصلے سے لی گئی تھی، جس کے تین برس بعد اس تصویر کو جاری کیا گیا ہے۔ بلیک ہولز خلا میں موجود وہ علاقے ہیں جن کی کشش ثقل اس قدر مضبوط ہے کہ روشنی سمیت کوئی بھی چیز اس سے بچ نہیں سکتی۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی ماہر فلکیات سارہ اساؤن نے جرمن شہر گارشنگ میں اس حوالے سے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ "ہمیں کئی عشروں سے ایک ایسے کمپیکٹ آبجیکٹ کے بارے میں معلوم تھا، جو ہماری کہکشاں کے مرکز میں موجود ہے اور جس کا حجم ہمارے سورج سے بھی چالیس لاکھ گنا زیادہ ہے۔" ان کا مزید کہنا تھا، "آج، اس وقت، ہمارے پاس براہ راست اس بات کے ثبوت ہیں کہ یہ چیز (آبجیکٹ) ایک بلیک ہول ہے۔"

کہکشاں کے اندر تاہم بہت فاصلے پر

یہ تصویر 'ایوینٹ ٹیلی اسکوپ کولیبوریٹیو' کے ذریعے حاصل کی گئی ہے اور ہماری کہکشاں میں اس بلیک ہول کی موجودگی سے متعلق ایسی پہلی براہ راست بصری پیشکش ہے جو عام انسانوں کی آنکھ سے پوشیدہ ہے۔ دوربین سے حاصل کردہ اس تصویر میں بلیک ہول بذات خود نہیں دکھتا ہے، بلکہ تیز روشنی سے روشن اس کے حلقے کو گھیرنے والی چمکتی ہوئی گیس اس کو ظاہر کرتی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ 'سیجیٹیریئس اے٭' زمین کے سورج سے بھی کئی ملین گنا زیادہ گھنا، یا کثافت والا ہے۔ گرچہ یہ ہماری کہکشاں کے اندر ہے، تاہم ایک اندازے کے مطابق یہ بلیک ہول زمین سے 27,000 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اس لیے کرہ ارض کو اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں سورج زمین سے صرف آٹھ نوری منٹ سے تھوڑا زیادہ فاصلے پر ہے۔ سائنس دانوں کی اسی ٹیم نے سن 2019 میں بھی ایک اور کہکشاں کے اندر پائے جانے والے بلیک ہول کی تصویر جاری کی تھی اور وہ بلیک ہول اس بلیک ہول سے بھی کہیں زیادہ بڑا تھا۔ اس کا حجم ہمارے سورج سے تقریبا ساڑھے چھ ارب گنا زیادہ بتایا جاتا ہے۔ ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ پروجیکٹ کے یوروپی سائنسدان ہائینو فاک کے مطابق یہ نئی تصویر اس لیے خصوصی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ "ہماری اپنی کہکشاں کا بلیک ہول ہے۔" 'سیجیٹیریئس اے٭' کی اس تصویر کو حاصل کرنے کے لیے، سائنسدانوں کو پورے سیارے میں آٹھ دیوہیکل ریڈیو آبزرویٹریوں کو جوڑنا پڑا تاکہ ایک ورچوؤل ٹیلی اسکوپ "ارتھ سائز ہورائزن ٹیلی اسکوپ" (ای ایچ ٹی) کو تشکیل دیا جا سکے۔ میکس پلانک انسٹیٹیوٹ فار ریڈیو آسٹرونومی کے جرمن سائنسدان تھامس کرچبام نے صحافیوں کو بتایا کہ "ای ایچ ٹی انسانی آنکھ سے تین ملین گنا زیادہ تیز دیکھ سکتی ہے۔ " تصویر کو حاصل کرنے کے لیے ای ایچ ٹی نے راتوں کے دوران مسلسل کئی گھنٹوں تک 'سیجیٹیریئس اے٭' کا مشاہدہ کیا۔ سن 2019 میں بھی بلیک ہول کی پہلی تصویر بنانے کے لیے بھی یہی طریقہ کار استعمال کیا گیا تھا۔

ص ز/ ج ا (اے ایف پی، اے پی، ڈی پی اے)

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More