بی جے پی کی صدارتی امیدوار قبائلی خاتون دروپدی مرمو کون ہیں؟

اردو نیوز  |  Jun 23, 2022

انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے ایک قبائلی خاتون سیاستدان دروپدی مرمو کو صدارتی امیدوار نامزد کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 64 سالہ دروپدی مرمو کا تعلق ریاست اوڈیشہ کے سنتھال قبیلے سے ہے اور وہ حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں دروپدی مرمو کے صدر منتخب ہونے کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ اس کی ایک وجہ حکومتی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی پارلیمان میں اکثریت ہے جبکہ دیگر ریاستی اسمبلیوں سے بھی حمایت کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ انڈیا میں صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ آئندہ ماہ جولائی میں ہو گی۔

دروپدی مرمو نے بطور سکول ٹیچر اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا اور قبائلیوں کے حقوق کے لیے بھی سرگرم رہی ہیں۔ بعد میں انہوں نے قومی دھارے کی سیاست میں قدم رکھا اور بی جے پی کے ٹکٹ پر ریاست اوڈیشہ کی اسمبلی میں دو مرتبہ منتخب ہوئیں۔

سال 2015 میں وہ ریاست جھاڑکھنڈ کی پہلی خاتون گورنر منتخب ہوئی تھیں۔

وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کو ٹویٹ میں کہا تھا کہ دروپدی مرمو نے اپنی زندگی معاشرے اور غریبوں و پسماندہ افراد کی خدمت میں وقف کر دی۔

نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ وہ ہماری قوم کی بہترین صدر ثابت ہوں گی۔‘

Smt. Droupadi Murmu Ji has devoted her life to serving society and empowering the poor, downtrodden as well as the marginalised. She has rich administrative experience and had an outstanding gubernatorial tenure. I am confident she will be a great President of our nation.

— Narendra Modi (@narendramodi) June 21, 2022

اپنی ذاتی زندگی میں بھی دروپدی مرمو انتہائی دردناک لمحات سے گزر چکی ہیں۔ مختلف واقعات میں ان کے شوہر او دو بیٹوں کی موت واقع ہوئی تھی۔

صدارتی انتخابات جیتنے پر دروپدی مرمو انڈیا کی پہلی قبائلی اور دوسری خاتون صدر ہوں گی۔

دوسری جانب انڈیا کی اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ بی جے پی کے سابق رکن یشونت سنہا کی حمایت کریں گے۔

انڈیا کے آئین میں صدر کا بنیادی طور پر رسمی کردار ہوتا ہے جبکہ وزیراعظم اور کابینہ کو ایگزیکٹو کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔

تاہم کسی بھی سیاسی بحران کے دوران صدر کا انتہائی اہم کردار ہوتا ہے بالخصوص بے نتیجہ قومی انتخابات کے موقع پر صدر ہی فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی جماعت کو حکومت بنانے کا حق ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More