آزادی کے 75 سال: بٹوارے پر مبنی بالی وڈ کی یہ پانچ فلمیں آپ نے دیکھی ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Aug 15, 2022

تقسیم ہند، فسادات اور اس کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کی نقل مکانی کا انسانی تاریخ کے سب سے بڑے المیوں میں شمار ہوتا ہے لیکن اس موضوع پر بننے والی فلمیں انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں۔

آئیے ایسی پانچ خصوصی فلموں کے بارے میں بات کرتے ہیں جو تقسیم کی ہولناکیوں کے بہت سے ان سنے پہلوؤں کو پیش کرتی ہیں۔

1۔ گرم ہوا

ملک کی تقسیم کے وقت حالات اچانک کیسے بدل گئے؟ اس پر انڈیا کے ساتھ ساتھ پاکستانی فلمسازوں نے بھی کچھ فلمیں بنائی تھیں لیکن اس پس منظر پر جو فلم سب سے پہلے سامنے آئی وہ 'گرم ہوا' تھی۔

ملک کی تقسیم کے تقریباً 25 سال بعد یعنی سنہ 1973 میں ریلیز ہونے والی 'گرم ہوا' اردو کی معروف فکشن نگار عصمت چغتائی کی ایک مختصر کہانی پر مبنی تھی، اس کا سکرین پلے معروف شاعر کیفی اعظمی اور شمع زیدی نے لکھے تھے جب کہ ایم ایس ستھیو اس کے ڈائریکٹر اور شریک پروڈیوسر بھی تھے۔

ملک کی تقسیم اور مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد بدلی ہوئی صورتحال پر بنی 'گرم ہوا' شمالی ہندوستان کے مسلمان تاجروں کا درد بیان کرتی ہے۔ فلم کا مرکزی کردار سلیم مرزا ہے جو آگرہ میں جوتوں کا سوداگر ہے۔

تقسیم کے بعد جب بہت سے مسلمان پاکستان ہجرت کرتے ہیں تو سلیم مرزا اپنے چھوٹے بیٹے سکندر کے ساتھ ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ تاہم تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کو دیکھ کر مرزا خاندان کے بھی کچھ افراد پاکستان بھی چلے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود سلیم اب بھی ہندوستان میں رہنا چاہتا ہے۔

اس فلم میں سلیم کی بیٹی آمنہ کی محبت کی کہانی کے ذریعے اس دور کی محبت کی کہانیوں کو بھی دکھایا گیا ہے۔ جب تقسیم کی وجہ سے بہت سے جوڑے اپنے بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ سے شادی نہیں کر سکے۔ بعد میں محبت کی یہ کہانی اس طرح کی دیگر فلموں کا بھی اہم حصہ بنتی رہی۔

آمنہ تقسیم سے پہلے قاسم سے محبت کرتی ہے لیکن جب وہ پاکستان جاتی ہے تو اس کے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد اسے اپنی محبت ایک اور نوجوان شمشاد میں ملتی ہے، لیکن جب شمشاد کے گھر والے بھی پاکستان جانے لگتے ہیں، تو اس کا دوبارہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔

یہاں مرزا ایک طرف اپنے ساتھ بدسلوکیوں کی وجہ سے بے گھر ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف وہ اپنی بیٹی کے دکھ سے بھی پریشان ہے۔ پھر وہ بھی یہ سوچ کر پاکستان جانے کا فیصلہ کرتا ہے کہ اسے وہاں اچھی زندگی ملے گی۔

'گرم ہوا' میں اداکاری کرنے والوں میں بلراج ساہنی، گیتا سدھارتھ، فاروق شیخ، شوکت اعظمی، جلال آغا اور اے کے ہنگل شامل ہیں۔ سب اپنے اپنے کردار میں اچھے تھے۔ لیکن 'گرم ہوا' 'دو بیگھہ زمین' کے بعد بلراج ساہنی کی زندگی کی دوسری فلم ہے، جس کے لیے انھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

بلراج ساہنی اپنے کرئیر کی یہ شاندار فلم نہیں دیکھ سکے۔ یہ بھی ایک اتفاق تھا جب بلراج ساہنی نے 12 اپریل سنہ 1973 کو 'گرم ہوا' کی آخری ڈبنگ کی، اگلے ہی دن دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوگیا۔

فلم کتنی اچھی تھی اس کے شواہد فلم کو ملنے والے ایوارڈز ہیں۔ سنہ 1974 میں 'گرم ہوا' کو قومی یکجہتی پر بہترین فلم کا نیشنل فلم ایوارڈ ملا۔ اس کے علاوہ اس فلم کو بہترین غیر ملکی زبان کی فلم کے زمرے میں آسکر کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ یہ فلم کانز فلم فیسٹیول سمیت کچھ دیگر بین الاقوامی فلمی میلوں میں بھی دکھائی گئی۔

فلم نے کہانی، سکرین پلے اور ڈائیلاگ کے لیے تین فلم فیئر ایوارڈز بھی جیتے ہیں۔ اس کے بعد ستھیو نے کچھ اور فلمیں بنائیں، لیکن آج بھی ستھیو کا نام آتے ہی سب سے پہلے ذہن میں 'گرم ہوا' ہی آتی ہے۔

2۔ تمس

جس طرح بلراج ساہنی کو 'گرم ہوا' کے لیے یاد کیا جاتا ہے اسی طرح ان کے بھائی بھیشم ساہنی کا ناول 'تمس' ان کا مقبول ترین ناول ہے، جس کے لیے بھیشم ساہنی کو انڈیا کا گرانقدر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ بھی ملا تھا۔

'تمس' کے ہدایت کار گووند نہلانی کے کریئر کی بہترین فلم بھی ہے۔ 'تمس' کو سنہ1988 میں قومی یکجہتی پر بننے والی فلم کے لیے بہترین فلم کا نرگس دت ایوارڈ ملا۔

اس کے ساتھ ہی سریکھا سیکری کو ان کی شاندار اداکاری کے لیے بہترین معاون اداکارہ اور ونراج بھاٹیہ کو موسیقی کے لیے قومی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اس فلم میں اوم پوری، امریش پوری، دینا پاٹھک، دیپا ساہی، اترا باؤکر، اے کے ہنگل، منوہر سنگھ، سعید جعفری، افتخار، کے کے رینا، بیری جان اور ہریش پٹیل کے ساتھ مصنف بھیشم ساہنی نے خود بھی اداکاری کی ہے۔

1947 کی تقسیم کے دوران ہونے والے فسادات کے پس منظر پر بنی یہ فلم فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے سے لے کر اس پر سیاست کرنے تک بہت کچھ بتاتی ہے۔ اس فلم میں پاکستان میں فسادات کے ماحول میں پھنسے ہندو اور سکھ خاندانوں کے درد کو بخوبی دکھایا گیا ہے۔

فلم کی کہانی ایک سؤر کے مارے جانے سے شروع ہوتی ہے جو بعد میں فرقہ وارانہ شکل اختیار کر لیتی ہے۔ سؤروں کو مارنے کا کام نتھو سے جھوٹ بول کر کیا جاتا ہے۔ بخشی جی، جو ایک بڑے لیڈر ہیں، جب کسی مسلم محلے میں جاتے ہیں اور حب الوطنی کے گیت گاتے ہیں، تو انھیں پتھروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ مسجد میں سور کا گوشت پڑا ملتا ہے۔

کہانی کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کس طرح ایک عام آدمی لیڈروں اور حکمرانوں کے اہداف کے درمیان پھنس جاتا ہے اور اپنی حالت زار کا ذمہ دار خود کو سمجھنے لگتا ہے۔

ہندو اور سکھ مسلم کمیونٹی کے مظالم سے بچ کر ہندوستان میں پناہ لیتے ہیں۔ کہانی کے آخر میں ایک بچہ مہاجر کیمپ میں پیدا ہوتا ہے۔ ایک طرف سے 'اللہ اکبر' کے نعرے اور دوسری طرف سے 'ہر ہر مہادیو' کے نعرے سنائی دے رہے ہیں۔

ناول میں یہ کہانی صرف پانچ دنوں کی ہے، لیکن ان پانچ دنوں میں اتنا کچھ دکھایا گیا ہے کہ اس دور کی بہت بڑی تصویر ابھرتی ہے۔ 'تمس' کو فلم کے ساتھ دوردرشن پر ایک سیریل کے طور پر بھی نشر کیا گیا تھا۔

3۔ ٹرین ٹو پاکستان

فلم 'ٹرین ٹو پاکستان' سنہ 1956 میں خوشونت سنگھ کے اسی نام سے شائع ہونے والےمشہور ناول پر مبنی ہے جس کی کہانی ہند-پاک سرحد پر واقع ایک افسانوی گاؤں منو ماجرا پر مرکوز ہے۔ یہ ایک ایسا پرسکون گاؤں ہے جہاں سکھ اور مسلمان برسوں سے محبت سے رہتے ہیں۔ دریائے ستلج پر ریلوے لائن بھی ہے۔

گاؤں کی زیادہ تر زمین سکھوں کی ہے اور مسلمان وہاں مزدوری کرتے ہیں لیکن جب ملک تقسیم ہوتا ہے تو فرقہ وارانہ فسادات کا طوفان سب کچھ تباہ کر دیتا ہے۔

جب پاکستان میں رہنے والے سکھ انڈیا کی سرحد میں آتے ہیں، تب ہی پاکستان سے ایک ٹرین انڈیا پہنچتی ہے، جو سکھوں اور ہندو مرد، عورتوں اور بچوں کی لاشوں سے بھری ہوتی ہے۔

یہ فلم اپنے پلاٹ کی وجہ سے ناظرین کو بہت زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی فلم بندی اور اداکاروں کی پرفارمنس دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

خونیں تقسیم کے باوجود ایک دوسرے کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے جناح اور گاندھی

تقسیم ہند میں علی گڑھ یونیورسٹی کیونکر بچی؟

محمد رفیع جو دھنوں سے کھلونوں کی طرح کھیلتے تھے

درحقیقت جب پامیلا جونیجا (بعد میں پامیلا روکس) نے خوشونت سنگھ کا یہ ناول پہلی بار سنہ 1975 میں کولکتہ میں پڑھا تو ان کی عمر صرف 17 سال تھی۔ لیکن ڈرامے میں دلچسپی لینے والی پامیلا کو اس پر فلم بنانے کا خیال صرف اس لیے آیا کہ وہ بچپن سے ہی تقسیم کے بارے میں اپنے والدین سے کہانیاں سنا کرتی تھیں۔ دوسری طرف خوشونت سنگھ نے خود تقسیم کا المیہ دیکھا تھا۔

تاہم پامیلا کا یہ خواب 23 سال بعد پورا ہوا جب وہ 40 سال کی تھیں۔ پامیلا راکس نے پانچ سال کومہ میں رہنے کے بعد سنہ 2010 میں 52 سال کی عمر میں اس دنیا کو الوداع کہا لیکن وہ اپنی فلم سے سب کی یادوں میں رہیں۔

فلم میں موہن اگاشے، نرمل پانڈے، سمرتی مشرا، دویہ دتہ، رجت کپور اور منگل ڈھلون نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔

4۔ پنجر

سنہ 2003 میں ریلیز ہونے والی فلم 'پنجر' تقسیم کے پس منظر پر ہندو مسلم مسائل پر ایک ایسی فلم ہے، جو بتاتی ہے کہ مسائل کو ہم آہنگی سے حل کیا جا سکتا ہے۔

فلم میں ہندو مسلم دشمنی کو تقسیم کے وقت دکھایا گیا ہے لیکن فلم کا اختتام ان دونوں کی محبت پر ہوتا ہے۔

'پنجر' نامور پنجابی مصنفہ امرتا پریتم کے اسی نام کے پنجابی ناول پر مبنی ہے۔ فلم کی ہدایت کاری اور سکرپٹ ڈاکٹر چندر پرکاش دویدی نے کی ہے۔ اپنے سیریل 'چانکیہ' سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے 10 سال بعد انھوں نے 'پنجر' سے فلمی ہدایت کاری میں قدم رکھا۔

یہ فلم ایک سرحدی گاؤں میں رہنے والے پورو اور رشید کی کہانی ہے، جو بدلے اور نفرت سے شروع ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ محبت میں بدل جاتی ہے۔

پورو کے کردار میں ارمیلا ماٹونڈکر اور رشید کے کردار میں منوج باجپائی نظر آتے ہیں۔

ارمیلا اس سے قبل فلم 'رنگیلا' کی وجہ سے گلیمرس گرل کے روپ میں مشہور تھیں لیکن اس فلم میں ارمیلا نے یہ دکھایا کہ وہ جو بھی کردار ہو اسے بخوبی نبھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

دوسری جانب منوج کو 'پنجر' میں بہترین اداکاری کے لیے جیوری کا خصوصی نیشنل فلم ایوارڈ بھی ملا۔ اس دور کی ڈرامہ فلم کی خاصیت اس کے خوبصورت سیٹس تھے جہاں ممبئی کے فلم سٹی میں آرٹ ڈائریکٹر مونیش سپپل نے 1947 کے لاہور اور امرتسر کو ری کریئٹ کیا تھا۔ مونیش کو اس کام کے لیے فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔

'پنجر' میں سندالی سنہا، پریانشو چٹرجی، ایشا کوپیکر، سنجے سوری، کلبھوشن کھربندا، دینا پاٹھک، فریدہ جلال، سیما بسواس اور سدھا شیو پوری دیگر نمایاں کرداروں میں ہیں۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ زمیندار کی بیٹی پورو کی رام چند سے شادی ہونے کی تصدیق ہو جاتی ہے لیکن اس سے پہلے رشید اپنی پرانی دشمنی کی وجہ سے پورو کو اغوا کر لیتا ہے۔ لیکن رشید، نفرت اور انتقام کی آگ میں سلگتے ہونے کے باوجود اس کے ساتھ رہتے ہوئے پورو سے محبت کرنے لگتا ہے۔

اگرچہ ایک رات پورو اپنے گھر بھاگ جاتی ہے لیکن اس کے گھر والے اسے قبول نہیں کرتے ہیں۔ پھر وہ رشید کے پاس لوٹتی ہے۔ اس دوران ملک تقسیم ہو جاتا ہے۔ ایسے میں رشید اس کی مدد کرتا ہے۔ پورو کا خاندان انڈیا چلا جاتا ہے لیکن پورو خوشی خوشی رشید کے ساتھ پاکستان میں رہ جاتی ہے۔

یہ فلم بہت خوبصورت انداز میں بننے کے بعد بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ کچھ لوگوں کو فلم پسند نہیں آئی کیونکہ انھیں اس کا اختتام پسند نہیں آیا۔

5۔ غدر - ایک پریم کتھا

مذکورہ چاروں فلمیں 'گرم ہوا'، 'تمس'، 'ٹرین ٹو پاکستان' اور 'پنجر' ادبی تصانیف پر مبنی ہیں، اور ان میں تقسیم سے ابھرنے والے مسائل کو سنجیدگی اور حساسیت کے ساتھ دکھایا ہے۔

اس کے برعکس 'غدر- ایک پریم کتھا' اس موضوع پر بنائی گئی ایک فارمولا فلم ہے جو انڈیا کے ناظرین کی داد حاصل کرنے کے ارادے سے بنائی گئی ہے اور وہ اس میں کامیاب بھی رہی۔

'غدر' تقسیم کے سانحے پر مبنی ایک کامیاب اور مقبول فلم ہے، جب کہ مذکورہ بالا چار فلمیں تجارتی اعتبار سے کامیاب نہیں ہوئیں۔

سنہ 2001 میں ریلیز ہونے والی 'غدر' کو زی ٹیلی فلمز نے پروڈیوس کیا تھا اور اس کی ہدایت کاری انیل شرما نے کی تھی۔

فلم میں سنی دیول، امیشا پٹیل، امریش پوری اور سریش اوبرائے نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ وہیں، اتم سنگھ کی میوزک ڈائریکشن میں اس فلم کے کئی گانے ہٹ ہوئے اور آج بھی اس کے میمز سوشل میڈیا پر نظر آتے ہیں۔

'غدر' میں تین مرکزی کرداروں سنی، امیشا اور امریش کی اداکاری ڈرامائی لیکن دلچسپ ہے۔ یہ امیشا پٹیل کی زندگی کی بہترین فلم ہے جس کے لیے امیشا کو خصوصی فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔

فلم کی کہانی تقسیم کے دوران ہونے والے فسادات سے شروع ہوتی ہے جہاں ایک نوجوان تارا سنگھ ایک مسلمان لڑکی سکینہ کو فسادیوں سے بچاتا ہے۔ کبھی تارا اور سکینہ شملہ کے کالج میں اکٹھے پڑھتے تھے۔

تارا اب امینہ کو اس کے گھر بھیجنا چاہتی ہے، پھر معلوم ہوتا ہے کہ اس کے والد اشرف علی فسادات میں مارے گئے ہیں، پھر دونوں کی شادی ہو جاتی ہے۔ ان کا ایک بچہ بھی ہوتا ہے۔

پھر یہ پتہ چلتا ہے کہ اشرف زندہ ہی نہیں بلکہ پاکستان میں میئر بن کر سیاست میں چھایا ہوا ہے۔ آمنہ پھر اپنے والد سے ملنے لاہور جاتی ہے۔ لیکن اشرف اسے انڈیا واپس نہیں بھیجتا ہے، اور اس کی دوبارہ شادی کرانے کی ترکیب کرتا ہے۔

پھر تارا اور جیت بھی ڈرامائی انداز میں لاہور پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے بعد سنی دیول کی لاتوں اور گھونسوں سے لڑائی کے مناظر اور ہینڈ پمپ اکھاڑ پھینکنے کے مناظر ہیں جو آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More