مہنگائی اور اخراجات زندگی: پاکستان میں متوسط طبقہ گھریلو اخراجات کیسے پورے کر رہا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Aug 17, 2022

Getty Images

پاکستان میں مہنگائی کی شکایت تو عوام نے ہر دور حکومت میں کی ہے مگر گزشتہ چند ماہ کے دوران کیا غریب اور کیا متوسط طبقہ، ہر ایک ہی پریشانی میں مبتلا ہے۔

اب بظاہر کھاتے پیتے گھرانے بھی مہنگائی کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں لیکن سفید پوش شہریوں کے لیے یہ ایک بڑی جنگ ہے جو انھیں ہر روز ہی لڑنا پڑتی ہے۔

مسز خالدہ خواجہ راولپنڈی میں رہتی ہیں اور بقول ان کے ’مہنگائی ایک ایسی سرنگ ہے جس کے کسی سرے پر کوئی روشنی نہیں۔‘

مسز خالدہ کا تعلق لوئر مڈل کلاس گھرانے سے ہے اور آج کل ان کا واحد ریلیف ’اپنا مکان‘ اور ’بچوں کی مکمل تعلیم‘ ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اب جب وہ اپنے بچوں کی شادیوں کا سوچ رہی تھیں تو مہنگائی نے کمر ہی توڑ دی ہے۔

’ایسے میں ہم کسی اور کی شادی پر جانے سے پہلے کئی بار سوچتے ہیں، اپنے گھر میں شادیاں کرانا تو فی الحال بہت ہی مشکل لگ رہا ہے۔‘

مسز خالدہ کے گھر کے بجٹ کی تفصیلات میں جانے سے پہلے آپ کو کچھ اعدادوشمار کے ذریعے یہ بتا دیں کہ مہنگائی کیوں سب کی جان کو آ رہی ہے۔

اگر ہم گزشتہ برس سے موازنہ کریں تو پاکستان کے ادارہ شماریات کے مطابق رواں برس جولائی میں گزشتہ برس کے مقابلے، مہنگائی میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا۔

Getty Imagesاعدادوشمار کے مطابق رواں برس جولائی میں گزشتہ برس کے مقابلے، مہنگائی میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا

مختلف دالوں کی قیمت 35 سے 92 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ پیاز کی قیمت میں تقریباً 90 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گھی 74 فیصد اور کھانا پکانے کے تیل کی قیمت تقریباً 73 فیصد بڑھی ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق مرغی کی قیمت میں تقریباً 60 فیصد جبکہ گوشت کی قیمت میں 26 فیصد اضافہ ہوا۔

سبزیوں کی قیمتیں 40 فیصد اور پھلوں کی 39 فیصد بڑھی ہیں۔ دودھ 25 فیصد جبکہ انڈے اور چائے کی پتی کی قیمت میں 23 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

لیکن یہ تو کھانے پینے کی اشیا ہیں، اب ایک نظر دیگر اشیا پر بھی ڈالتے ہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق صابن، سرف یہاں تک کہ ماچس کی ڈبیا کی قیمت بھی 25 فیصد بڑھ گئی ہے۔ کپڑوں کی قیمت 18 فیصد، جوتوں کی 19 فیصد جبکہ پلاسٹک کی اشیا کی قیمت بھی 19 فیصد بڑھی ہے۔

پچھلے سال کے مقابلے میں گاڑیوں کے فیول (پیٹرول، ڈیزل) کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوا اور یہ شرح تقریباً 95 فیصد ہے۔ بجلی کی قیمت میں تقریباً 87 فیصد اضافہ ہوا۔

BBCمسز خالدہ کا تعلق لوئر مڈل کلاس گھرانے سے ہے اور آج کل ان کا واحد ریلیف ’اپنا مکان‘ اور ’بچوں کی مکمل تعلیم‘ ہے’اب بریانی مصالحہ نہیں خریدتی کہ یہ بھی فالتو خرچہ ہے‘

اب کچھ بات سنتے ہیں راولپنڈی کی مسز خالدہ خواجہ کی جن کے پاس ہزاروں شکوے اور شکایتیں ہیں مگر میں ان سے اس لیے ملی تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ آج ایک عام گھر میں بجٹ سنبھالنا کتنا مشکل ہے۔

خالدہ خواجہ کے چار بچے ہیں جبکہ گھر میں فی الحال دو افراد برسر روزگار ہیں۔۔۔ ایک ان کے شوہر جو چھوٹا سا کاروبار کرتے ہیں اور دوسرا ان کا بیٹا، جنھوں نے حال ہی میں پرائیویٹ سیکٹر میں نوکری شروع کی ہے۔

جب ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا مہنگائی کے ساتھ آپ کی آمدن بھی بڑھی ہے تو خالدہ خواجہ نے بتایا کہ ’میرے شوہر ایک بزنس مین ہیں، کبھی کاروبار اچھا چلتا ہے اور کبھی آمدن انتہائی محدود ہو جاتی ہے۔ آمدن وہی ہے جو تین سال پہلے تھی مگر اخراجات بے تحاشہ ہو گئے ہیں۔‘

وہ مزید وضاحت کرتی ہیں کہ ’ایسا نہیں کہ اب ضرورت بڑھ گئی ہے۔ سب ویسا ہی ہے مگر اب پیسے کی قدر ہی ختم ہو گئی ہے۔ آپ پانچ ہزار گراسری کے لیے لے کر جاؤ تو واپسی پر ہاتھ میں دو چھوٹے سے شاپر ہوں گے اور جیب میں ایک دھیلا نہیں بچے گا۔‘

’میں خود مہینے بھر کا سودا لاتی رہی ہوں، جو چیز پہلے 500 کی ملتی تھی وہ اب ایک ہزار سے زیادہ کی ہو گئی ہے۔ پانچ سال پہلے جو آمدن تھی اب بھی وہی ہے مگر آپ یہ دیکھیں کہ پانچ سال پہلے اس آمدن سے میں نے اوپر والی منزل پر دو کمرے بنوا لیے تھے، ایک بیٹی کی شادی کرا دی تھی۔ اب وہی آمدن ہے مگر گھر کا سودا بھی پورا نہیں ہو پاتا۔‘

جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ گھر کا ضروری سودا سلف لانے کے لیے اپنا بجٹ کیسے ترتیب دیتی ہیں تو خالدہ خواجہ نے بتایا کہ اب وہ بہت سوچ سوچ کر چیزیں خریدتی ہیں۔

’ہر بار ٹوکری میں کچھ ڈالنے سے پہلے یہ ضرور سوچتی ہوں کہ کیا یہ چیز ضروری ہے؟ کیا اس کے بغیر گزارہ ہو سکتا ہے؟ بس یہ سوچتے سوچتے آدھی چیزیں تو ویسے ہی واپس رکھ دیتی ہوں۔ میں پہلے ضروری چیزوں کے علاوہ بھی کچھ پسند آ جائے تو لے آتی تھی۔۔۔ کبھی بیکنگ کا سامان اٹھا لیا کبھی کچھ اور۔ اب وہ سب مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ میں تو اب بریانی مصالحہ نہیں خریدتی کہ یہ بھی فالتو خرچہ ہے۔‘

’پہلے بیف بریانی پکاتی تھی، اب چنے چاول پکاتی ہوں‘

جب میں نے ان سے مزید پوچھا کہ وہ کون سی چیزیں ہیں جو انھوں نے کچن کے سامان سے کم کر دی ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ ’کیا کھانا پینا چھوڑا جا سکتا ہے؟ کیا آئل، گھی یا آٹا اور دالیں چھوڑ سکتے ہیں۔‘

مسز خالدہ خواجہ کہتی ہیں کہ ’مرغی اور گوشت تو ویسے ہی پہنچ سے باہر ہیں۔ پہلے ہر وقت کا تازہ کھانا پکتا تھا، اب کوشش ہوتی ہے کہ دوپہر کا پکا رات بھی چل جائے۔ کھانے کی بھی بچت ہو جائے گی اور گیس کی بھی۔‘

AFP

’پہلے ہفتے میں دو بار گوشت پکتا تھا، اب ایسا نہیں ہوتا۔ فی الحال تو قربانی کا گوشت پڑا ہے فریج میں تو عید کے بعد سے اب تک گوشت آیا ہی نہیں لیکن اس سے پہلے ہفتے میں دو بار گوشت کی بجائے مہینے میں ایک بار پکاتی ہوں۔ جتنے پیسوں میں گوشت خریدوں گی، اس رقم میں تو تین دن کا کھانا تیار کر سکتی ہوں۔‘

’اسی طرح پہلے بیف بریانی پکاتی تھی، اب چنے چاول پکاتی ہوں۔ یہی کٹوتیاں ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔ پہلے میرے گھر والے گوشت کڑاہی پسند کرتے تھے، اب تو شوربے میں گوشت پکاتی ہوں تاکہ دوسرے وقت کے لیے بھی بچ جائے۔‘

سبزیوں کی قیمت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مسز خالدہ نے بتایا کہ ’رہی بات سبزی کی تو انھیں ویسے ہی آگ لگی ہوئی ہے۔ کدو پچاس سے 100 روپے کا ہو گیا ہے۔ ادرک کو تو بھول ہی جائیں۔ آلو، پیاز، ٹماٹر، لہسن ہر چیز مہنگی ہے۔ سالن پکانے کی یہ بنیادی چیزیں خریدنے کے بعد مزید سبزی لینے کی سکت باقی نہیں رہتی۔ میں اب سوچتی ہوں کچھ گھر میں اگانا شروع کر دوں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’دو دن سے گھر میں روٹی نہیں پکی کیونکہ آٹا خریدنے کے پیسے نہیں‘

پاکستان میں مہنگائی سے پریشان عوام: ’اب ہم ایک وقت کا کھانا ہی کھا سکتے ہیں‘

مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی: ’دیکھیے بازار خالی پڑا ہے، گاہک قیمت سن کر پلٹ جاتے ہیں‘

BBC’گیس گرمیوں میں آتی ہے نہ سردیوں میں لیکن بل ہر مہینے آتا ہے‘

گھرداری میں ایک خرچہ بجلی اور گیس کے بل بھی ہیں، میں نے خالدہ خواجہ سے پوچھا کہ اس مد میں کتنی رقم لگ جاتی ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ صرف بجلی گیس نہیں بلکہ پانی کا بل بھی شامل کریں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میرا گھر جس جگہ ہے یہاں گیس گرمیوں میں آتی ہے نہ سردیوں میں لیکن بل ہر مہینے آتا ہے۔ گیس کا سلینڈر رکھا ہے، وہ ہر دو ہفتے بعد بھرواتے ہیں۔ یہاں پانی کی سپلائی لائن تو ڈال دی مگر پانی ابھی تک نہیں آیا۔ ہر ہفتے پانی کا ٹینکر آتا ہے، اس کی قیمت اب 2500 روپے ہے۔ تو مہینے کے کم از کم پندرہ ہزار تو ان دو چیزوں کے ہیں۔‘

’بجلی کا بل ان سب پر بھاری ہے۔ گھر میں دو اے سی ہیں، ہم صرف ایک چلاتے ہیں اور وہ بھی جب بہت زیادہ گرمی ہو جائے۔ اس کے علاوہ فریج ہر وقت چلتا ہے اور واشنگ مشین ہفتے میں ایک بار لیکن اس بار میرا بل تقریباً 30 ہزار روپے آیا۔‘

’پانچ مرلے کا گھر ہے، کل چھے انرجی سیور لگے ہیں جو صرف ضرورت کے وقت آن کرتے ہیں۔ ان سب کے 30 ہزار اور پانی گیس کے 15 ہزار۔ تو یہ میں لگ بھگ پچاس ہزار، پانچ افراد کے گھر میں گرمیوں میں بل جمع کرا رہی ہوں اور میرے گھر میں کمانے والے صرف دو لوگ ہیں جن میں سے ایک کی کل تنخواہ ہی 35 ہزار روپے ہے۔‘

Getty Images’رشتہ داروں کے ہاں جانے کا مطلب ہے پیٹرول کا خرچہ‘

مسز خالدہ کے گھر میں ایک چھوٹی گاڑی بھی ہے جسے صرف فیملی کے ساتھ کہیں جانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ گھر کے مرد اپنے روز مرہ کاموں کے لیے موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’پیٹرول اب پہنچ سے باہر ہے، اس لیے مرد تو زیادہ تر موٹر سائیکل ہی استعمال کرتے ہیں۔ میرا بیٹا راولپنڈی سے اسلام آباد روز آتا جاتا ہے اور ہر دوسرے تیسرے دن ہزار روپے کا پیٹرول ڈلواتا ہے۔ فیملی ساتھ ہو تو ہم گاڑی استعمال کرتے ہیں لیکن اب باہر آنا جانا اور رشتہ داروں وغیرہ کی طرف جانا بہت ہی کم ہو گیا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’رشتہ داروں کے ہاں جانے کا مطلب ہے پیٹرول کا خرچہ۔ اس کے علاوہ کسی کے گھر خالی ہاتھ بھی نہیں جا سکتے۔۔۔ کوئی پھل، کیک وغیرہ لے کر جانا پڑتا ہے تو وہ ایک الگ خرچہ ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ آنا جانا ہی کم کر دیں۔ اب میرے گاوں میں کوئی شادی یا خدانخواستہ کوئی موت ہو جائے تو بس ایک بندہ پبلک ٹرانسپورٹ میں گاؤں چلا جاتا ہے۔ پوری فیملی کا آنا جانا اب بہت کم ہو گیا ہے اور وجہ صرف مہنگائی ہے۔‘

لیکن کیا ان سب اخراجات کے بعد کوئی بچت بھی ہو پاتی ہے؟ مسز خالدہ کا ماننا ہے کہ بچت والا زمانہ اب ان جیسے لوگوں کے لیے نہیں رہا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہاں جو کمایا، وہ لگایا والی مثال ہی بنتی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ اب مہینے بھر کا راشن لانا مشکل ہو گیا ہے۔ اتنا بڑا بل بنتا ہے کہ باقی مہینے میں کسی ایمرجنسی کے لیے بھی کچھ نہیں بچتا۔ میں پندرہ دن کا سودا لاتی ہوں تاکہ پندرہ دن اتنا سکون تو ہو کہ گھر میں کچھ پیسے موجود ہیں۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More