یوکرین جنگ : روسی صدر پوتن ’یوکرین کے مقبوضہ علاقوں کے الحاق کا اعلان کرنے والے ہیں‘

بی بی سی اردو  |  Sep 28, 2022

Reuters

برطانوی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادمیر پوتن آئندہ چند روز کے اندر یوکرین کے مقبوضہ علاقوں کا روس کے ساتھ الحاق کا اعلان کرنے والے ہیں۔

وزارت دفاع کے مطابق روسی صدر یہ اعلان جمعہ کے روز ملکی پارلیمان سے اپنے خطاب کے دوران کر سکتے ہیں۔

منگل کے روس کے زیر قبضہ یوکرینی علاقوں میں نام نہاد ریفرنڈم کا آخری دن تھا۔ روس کے زیر قبضہ یوکرین کے ان علاقوں میں ماسکو کے تعینات کردہ اہلکار اب ان لوگوں کی تقریباً مکمل حمایت کا دعویٰ کر رہے ہیں جنھوں نے روس میں شمولیت کی متنازع ووٹنگ میں حصہ لیا۔

جبکہ یوکرین کی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے اس نام نہاد ریفرنڈم کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے۔ کیونکہ بین الاقوامی نمائندگی کی عدم موجودگی میں، اس عمل کی آزادانہ نگرانی نہیں کی گئی۔

جبکہ ڈونٹسک اور لوہانسک میں کریملن کی حامی انتظامیہ کے زیر انتظام نیوز ایجنسیاں رپورٹ کر رہی ہیں کہ 99.23 فیصد تک لوگوں نے روس میں شمولیت کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس پر الزام لگایا کہ وہ طاقت کے ذریعے قبضے میں لیے گئے علاقوں کو ضم کرنے کی کوشش کر کے ’اقوام متحدہ کے قانون کی خلاف ورزی‘ کر رہا ہے۔

انھوں نے منگل کی رات خطاب میں کہا کہ ’مقبوضہ علاقوں میں اس گھٹیا ناٹک کو ریفرنڈم نہیں کہا جا سکتا۔`

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں مردوں کو روسی فوج میں شامل ہونے پر مجبور کرنے کی ایک انتہائی مذموم کوشش تھی تاکہ انھیں اپنے ہی وطن کے خلاف لڑنے کے لیے بھیجا جا سکے۔`

یوکرین اور مغربی طاقتوں کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم کے نتائج کا فیصلہ روسی حکومت پہلے ہی کر چکی ہے اور انھیں یوکرین کی سرزمین کو غیر قانونی طور پر ہتھیانے کے لیے استعمال کرے گا۔مشرقی علاقوں ڈونسک اور لوہانسک، اور جنوبی علاقوں کھرسن اور زاپوریژیا میں تقریباً 40 لاکھ افراد سے کہا گیا تھا کہ وہ روس کے ساتھ الحاق کے لیے منعقدہ ریفرنڈم میں ووٹ ڈالیں۔

ریفرنڈم میں رائے دینے کے لیے چار دن کا وقت دیا گیا تھا۔ اس دوران دھونس اور دھاندلی کے الزامات بھی سامنے آئے جن میں کہا گیا تھا انتخابی عملہ مسلحہ گارڈ کے ساتھ گھر گھر گیا۔

روس ان ووٹوں کو یوکرین پر حملے کے لیے جواز کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔

Getty Images

یہ علاقے یوکرین کے 15 فیصد رقبے پر مشتمل ہیں اور ان کے انضمام کے بعد یوکرین جنگ زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے کیونکہ جب یوکرین ان علاقوں کو واگزار کروانے کے لیے حملہ کرے گا تو ماسکو اسے خود مختار مملکت پر حملہ قرار دے گا۔

مارچ 2014 میں بھی روس نے ایک نام نہاد ریفرنڈم کے بعد کرائمیا کے روس کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تھا۔

کیا ووٹ ڈالتے وقت بندوقیں آپ کی حفاظت کے لیے تھیں، یا آپ کو ووٹ ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے؟ اس سوال کی گونج اس وقت لوگوں کے ذہن میں آئی جب انتخابی عملے کے ارکان نے مسلح دستوں کے ساتھ جا کر لوگوں کے دروازوں پر دستک دی۔

زاپوریژیا کے علاقے میں ایک عورت نے بی بی سی کو بتایا کہ دو مقامی افراد روسی فوجیوں کے ساتھ ان کے فلیٹ پر آئے اور انھیں بیلٹ پیپر دیے۔

یہ بھی پڑھیے

یوکرین کے صدر کا روس کے زیر قبضہ آٹھ ہزار کلومیٹر کا علاقہ دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ

کیا روسی صدر کی ’زہریلی مردانگی‘ یوکرین تنازعے کی وجہ بنی؟

یوکرین پر مغربی اتحاد کب تک برقرار رہ سکتا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے والد نے (روس کے ساتھ الحاق سے) ’انکار‘ کر دیا۔ میری والدہ نے، جو قریب کھڑی تھیں نے پوچھا کہ ’انکار‘ کے بعد کیا ہوگا۔ تو عملے نے جواب دیا کہ کچھ نہیں۔ مگر اب میرے والدین کو ڈر ہے کہ روسی انھیں ایذا پہنچائیں گے۔

یوکرین نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ان نام نہاد ریفرنڈموں کی حمایت یا انتظام کرے گا اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا اور اگر وہ مجرم پایا گیا تو اسے 15 سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔

Reutersروسی شہر روستوو-آن-ڈون میں ووٹنگ

سربیا ان چند ایک یورپی ممالک میں سے ایک ہے جس نے روس پر لگائی گئی پابندیوں کی حمایت نہیں کی ہے مگر اس نے بھی ریفرنڈم کے نتائج کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بین الاقوامی مخالفت کے باوجود روسی وزیر خارجہ سرگئ لارؤف کا کہنا ہے کہ یہ ووٹ ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی ’خواہش کا اظہار‘ ہیں۔ انھوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اگر یہ چار علاقے روس سے الحاق کرتے ہیں تو انھیں مکمل تحفظ حاصل ہوگا جس میں ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ حفاظت بھی شامل ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے وہ ان علاقوں کی ’کوئی دوسری حیثیت تسلیم نہیں کرے گا، سوائے اس کے کہ وہ یوکرین کا حصہ ہیں۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More