عامر جمال: ’والد نے کہا پڑھائی کرو یا پھر کاروبار میں ہاتھ بٹاؤ‘

بی بی سی اردو  |  Sep 29, 2022

Getty Images

15 ستمبر کو انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا اعلان ہوا تو 18 رکنی سکواڈ کی فہرست میں شامل ایک نام پر لوگ حیران تھے کہ یہ کھلاڑی کون ہے اور کہاں سے آیا ہے؟لیکن پھر گذشتہ شب ہر کسی کی زبان پر اُسی کھلاڑی کا نام تھا اور فقط 13 ہی روز میں کرکٹر عامر جمال کے لیے سب کچھ بدل چکا تھا۔

عامر جمال کون ہیں؟

26 سالہ عامر جمال کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر میانوالی کے گاؤں کلور شریف سے ہے۔ اُن کے والد سرائیکی اور والدہ پشتون ہیں۔ عامر جمال خود انگریزی اور اُردو کے علاوہ سرائیکی اور پشتو بھی بول لیتے ہیں۔

عامر کے والد کا میانوالی میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار ہے جبکہ عامر اپنے خاندان میں کرکٹ کھیلنے والے پہلے فرد ہیں۔

یہ سنہ 2010 کی بات ہے جب عامر جمال دوستوں کے ساتھ سیر و تفریح کی غرض سے اسلام آباد پہنچے تھے جہاں انھیں ہارڈ بال کرکٹ نے انھیں اپنی جانب متوجہ کیا۔

اس سے قبل وہ میانوالی میں ٹینس بال کے ساتھ شوقیہ کرکٹ کھیلا کرتے تھے اور یہ وہ وقت تھا جب عامر جمال کو ہارڈ بال سے کھیلنے کا موقع میسر نہ تھا۔ انھوں نے میانوالی واپس جا کر اپنے والد سے اپنی خواہش کا اظہار کیا لیکن والد نے یہ بات اُن پر واضح کر دی کہ ’وہ پڑھائی پر توجہ دیں یا پھر اُن کے ساتھٹرانسپورٹ کے کاروبار میں اُن کا ہاتھ بٹائیں۔‘

لیکن عامر کے دماغ پر کرکٹ چھائی ہوئی تھی چنانچہ انھوں نے واپس اسلام آباد آ کر کلب کرکٹ شروع کر دی۔

محنتی اور باصلاحیت کرکٹرGetty Images

عامر جمالنے اپنی تمام تر کلب کرکٹ اسلام آباد میں کھیلی ہے۔ اس ضمن میں سب سے اہم نام جو سامنے آتا ہے وہ سینیئر صحافی سید طلعت حسین کا ہے جو عامر جمال کی حوصلہ افزائی میں پیش پیش رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ انگلینڈ کے خلاف پانچویں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی میچ وننگ پرفارمنس کے بعد عامر جمال کی تعریف میں اُن کے دو ٹویٹس قابل ذکر تھے جن میں سے ایک میں انھوں نے لکھا ’عامر جمال، ٹیلنٹ ہے۔ بھروسہ تو کرو۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سید طلعت حسین نے کہا ’چونکہ میں خود کرکٹ میں بہت زیادہ دلچسپی لیتا ہوں اسی لیے میں اسلام آباد ہاکس کلب کی نگرانی بھی کرتا ہوں۔ اس کلب سے اظہر محمود بھی کھیلتے رہے ہیں۔ عامر جمال کو میں اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ انڈر19 کھیل کر ہمارے کلب میں آئے تھے۔ عامرجمال کو میں نے ایک محنتی کرکٹر پایا ہے جنھوں نے اپنی صلاحیتوں کے بل پر پاکستانی ٹیم میں جگہ بنائی ہے۔‘

عامر جمال کا کریئر

عامر جمال کا نام سب سے پہلے جون 2013 کے دوران اسلام آباد انڈر 19 میں سامنے آیا تھا جب انھوں نے اپنے پہلے ہی میچ میں ویسٹ زون کی طرف سے نارتھ زون کے خلاف 77 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔ اسی ٹورنامنٹ میں انھوں نے ایسٹ زون کے خلاف بھی نصف سنچری بنائی۔ اگلے سال انھیں پاکستان انڈر 19 کی طرف سے افغانستان انڈر 19 کے خلاف کھیلنے کا موقع بھی ملا۔

عامر جمال کا کریئر اُتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے لیکن انھوں نے حوصلہ نہیں ہارا۔

یہ بھی پڑھیے

’عامر جمال نے بساط پلٹ دی‘: سمیع چوہدری کا کالم

جس لمحے میں حارث رؤف پر 'حال' طاری ہوا: سمیع چوہدری کا کالم

’کیا یہ مڈل آرڈر آسٹریلیا میں رنز کرے گا جو اپنے ہوم گراؤنڈ پر ناکام ہے‘

گریڈ ٹو کرکٹ کھیلنے کے بعد انھوں نے ستمبر 2018 میں اپنے فرسٹ کلاس کریئر کا آغاز پاکستان ٹیلی وژن کی طرف سے ملتان کے خلاف کیا اور اپنے پہلے ہی میچ کی پہلی اننگز میں چار اور دوسری اننگز میں دو وکٹیں حاصل کیں۔

ڈومیسٹک کرکٹ میں جب ڈیپارٹمنٹس کی کرکٹ ختم ہوئی تو عامر جمال کو ناردن کی طرف سے کھیلنے کا موقع مل گیا۔ ان کی سب سے بہترین کارکردگی سدرن پنجاب کےخلاف رہی جب انھوں نے 111 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

عامر جمال نے آسٹریلیا اور انگلینڈ میں لیگ کرکٹ کھیلی ہے تاہم ابھی تک وہ پاکستان سپر لیگ کے پلیٹ فارم پر نظر نہیں آئے ہیں حالانکہ کچھ عرصہ قبل یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ ایمرجنگ کیٹگری میں منتخب ہو جائیں گے۔

وہ ان چھ کھلاڑیوں کی صف میں ضرور شامل ہو گئے ہیں جنھوں نے پی ایس ایل کے آغاز کے بعد اس میں کھیلے بغیر ہی بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کریئر شروع کر دیا ہے۔

عامر جمال کو اس سال کشمیر پریمیئر لیگ میں تین میچ کھیلنے کا موقع ملا جس کے ایک میچ میں انھوں نے چار وکٹیں حاصل کیں۔

عامر جمال نے گذشتہ سال ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی کریئر کا آغاز کیا تھا اور ناردن کی سینٹرل پنجاب کے خلاف پانچ وکٹوں کی جیت میں 27 رنز ناٹ آؤٹ اور تین وکٹوں کی عمدہ آل راؤنڈ کارکردگی کے ساتھ کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

اس میچ میں انھوں نے احمد شہزاد، شعیب ملک اور فہیم اشرف کو آؤٹ کیا تھا۔

انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے عامر جمال کا انتخاب حالیہ قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کی کارکردگی کی بنیاد پر ہوا۔ گو کہ اعداد و شمار کے لحاظ سے یہ کارکردگی بہت غیرمعمولی نہیں تھی لیکن سلیکٹرز نے عامر جمال کے ٹیلنٹ کو دیکھتے ہوئے انھیں پاکستانی سکواڈ میں شامل کیا۔

ٹی ٹوئنٹی کپ میں عامر جمال کی سب سے عمدہ کارکردگی سدرن پنجاب کے خلاف رہی جس میں انھوں نے چار چھکوں اور پانچ چوکوں کی مدد سے صرف 17 گیندوں پر 47 رنز بنانے کے علاوہ تین وکٹیں بھی حاصل کیں۔

پہلے ہی اوور میں وکٹ

عامر جمال نے اپنے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کریئر کے پہلے ہی اوور میں وکٹ لی جب انھوں نے دوسری گیند پر سیم کرن کو آؤٹ کیا۔ ان سے قبل 2015 میں پاکستان کے عامر یامین نے انگلینڈ ہی کے خلاف شارجہ میں جیسن روئے کو اپنی پہلی ہی گیند پر آؤٹ کیا تھا تاہم عامر جمال میچ کے آخری اوور کی وجہ سے ہیرو بن گئے جس نے پاکستان کو چھ رنز کی ڈرامائی جیت سے ہمکنار کر دیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More