جوبائیڈن نے مسلم ممالک میں سفری پابندیاں ختم کردیں

روزنامہ اوصاف  |  Jan 21, 2021

واشنگٹن (روزنامہ اوصاف) امریکی صدر جوبائیڈن نے آتے ہی مسلم ممالک پر سفری پابندیوں کے خاتمے ، پیرس ماحولیاتی معاہدے، ڈبلیو ایچ او میں دوبارہ شمولیت سمیت کئی ایگزیکٹیو آرڈرز پر دستخط کر دیئے ۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق جوبائیڈن نے حلف اٹھانے کے فوری بعد پندرہ ایگزیکٹیو اور دو ایجنسی آرٹرز پر دستخط کیے ۔ ان کا مقصد سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں کو پلٹنا اور بائیڈن کے حلف اٹھانے کے چند گھنٹوں بعد ہی نئی انتظامیہ کی واضح پالیسی کا تعین کرنا ہے۔پولیس نے پشاوربڑی تباہی سے بچا لیاایگزیکٹو آرڈرز میں مسلم ممالک پر سفری پابندیوں کے فوری خاتمے کا حکم دیا گیا ہے اس کے علاوہ امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر روکنا، وفاقی حکومت میں اقلیتی گروہوں کے لیے تنوع اور مساوات بڑھانے کی کوششیں، عالمی ادارہ صحت میں امریکہ کو شامل رکھنا، ماحولیات کے تحفظ کو بڑھانا، کورونا وائرس کے خلاف جنگ کو مستحکم کرنا ہے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جوبائیڈن نے کہا کہ ہم ماحولیاتی تبدیلیوں کا ایسا مقابلہ کریں گے جو اب تک نہیں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے خاتمے کے لیے اٹھائے گئے ہمارے اقدامات اس بحران کی سمت تبدیل کرنے میں مددگار ہوں گے۔واضح رہے کہ جوبائیڈن نے امریکا کے 46ویں صدر کے طور پر حلف اٹھا لیا۔امریکی سپریم کورٹ چیف جسٹس جان رابرٹ جوبائیڈن سے حلف جوبائیڈن سے حلف لیا۔ کمیلا ہیرس امریکا کی پہلی خاتون نائب صدر بن گئیں۔ کمیلا ہیرس سے امریکی سپریم کورٹ کی جج سونیا سوٹو میئر نے حلف لیا۔یاد رہے کہ مسلم ممالک سے آنے والوں کے لیے ویزے کی متنازع پابندی ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے ایک ہفتے بعد لگائی تھی جس کے بعد دنیا بھر میں ٹرمپ کے اس اقدام کی مذمت کی گئی اور احتجاج کیا گیا تھا۔امریکی عدالت نے صدر ٹرمپ کی طرف سے لگائی گئی پابندی کے پہلے ورژن کو رد کر دیا تھا اور تیسرے ورژن کی توثیق کی تھی جس کے تحت ایران، لیبیا، صومالیہ، شام اور یمن پر ویزے کی پابندی برقرار رکھی گئی۔جبکہ 2020 میں اس پابندی میں توسیع کرنے کے ساتھ سوڈان اور نائجیریا سمیت چھ مسلم ممالک پر مستقل طور امیگریشن کی پابندی بھی لگا دی گئی تھی۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More