منکی پاکس کیا ہیں اور یہ کس قدر خطرناک بیماری ہے؟

ڈی ڈبلیو اردو  |  May 29, 2022

منکی پاکس وائرس چوہوں اور دیگر جنگلی جانوروں میں پیدا ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔ انسانوں میں اس بیماری کے زیادہ تر کیسز وسطی اور مغربی افریقہ میں ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس بیماری کا پتہ پہلی مرتبہ 1958ء میں وسطی افریقہ کے بارانی جنگلوں میں چلا تھا، جہاں اس بیماری نے بندروں کو متاثر کیا تھا۔ اسی لیے اس مرض کو منکی پاکس کہا جاتا ہے۔ انسانوں میں اس کا پہلا کیس 1970ء میں افریقی ملک کانگو میں ایک نو سالہ بچے میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اس مرض کی علامات کیا ہیں؟

یہ وائرس کسی متاثرہ شخص کے جسمانی سیال سے یا تنفس اور چھونے والی سطحوں کے ساتھ رابطے دونوں کے ذریعے انسان سے انسان میں پھیل سکتا ہے۔ یہ بیماری بالعموم دو سے چار ہفتے تک رہتی ہے۔ مریض کو بخار، ٹھنڈ، تھکن محسوس ہوتی ہے اور جسم پر دانے نکلتے ہیں۔  دس میں سے ایک مریض کے لیے منکی پاکس خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بچے اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ متاثرہ افراد کو سمال پاکس مرض کی ویکسین دی جاتی ہے، جو زیادہ تر کیسز میں مفید ثابت ہوتی ہے۔

یہ وبا ماضی قریب میں افریقہ سے باہر شاذ و نادر ہی پھیلی ہے البتہ اس مرتبہ مغربی ممالک میں انفیکشن کے نئے سلسلے نے تشویش کوجنم دیا ہے۔ 'یورپی سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ  کنٹرول‘ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سارے مشتبہ کیسز کو قرنطینہ میں رکھا جائے اور حساس مریضوں کو سمال پاکس کی ویکسین بھی دی جائے۔

بارہ ملکوں میں 'منکی پاکس' کی تصدیق، بڑھتے کیسز پر عالمی ادارہ صحت فکرمند

منکی پاکس کے کتنے کیسز ریکارڈ کیے جاتے ہیں؟

عالمی ادارہء صحت کے مطابق ہر سال افریقی ممالک میں منکی پاکس کے ہزاروں کیسز ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ زیادہ تر کیسز کانگو میں ہوتے ہیں، جہاں سالانہ چھ ہزار افراد اس مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد نائیجیریا کا نمبر ہے، جہاں سالانہ تین ہزار کیسز رجسٹر ہوتے ہیں۔ لیکن کیسز کی اصل تعداد  اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ماضی میں امریکہ میں بھی اس کے کچھ کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

حالیہ کیسز میں کیا فرق ہے؟

ایسا پہلی مرتبہ ہوا  ہے کہ منکی پاکس کے کیسز ان افراد میں ریکارڈ کیے گئے ہیں، جنہوں نے افریقہ کا سفر نہیں کیا۔ زیادہ تر کیسز ان مردوں میں تشخیص کیے گئے ہیں، جو دوسرے مردوں کے ساتھ جنسی روابط میں تھے۔  لیکن حتمی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ بیماری جنسی روابط سے پھیلتی ہے یا نہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق متاثرہ مریض کے بہت زیادہ قریب ہونے یا اس کے جسم کو چھونے سے یہ مرض پھیل سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ عالمی ادارہ متاثرہ ملکوں اور اپنے شرکاء کار کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ اس بیماری کی وسعت کی سنگینی اور اس کے پھیلنے کے اسباب کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔

ب ج / ا ا (اے پی)

ویڈیو دیکھیے 04:12 کوئٹہ، آلودہ پانی سے بچوں میں پھیلتی بیماریاں

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More