ایک سو اسی کلو میٹر تک پھیلے ہوئے دنیا کے سب بڑے پودے کی دریافت

ڈی ڈبلیو اردو  |  Jun 01, 2022

ماہرین نے بتایا ہے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ 'شارک بے‘ کے علاقے میں دریافت کیے گئے اس پودے میں کتنے مزید پلانٹس اُگے ہیں اور ان کی ماہیت کیا ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس سے بھی بڑے پودے ہوں لیکن انسانی علم کے مطابق فی الحال دنیا کا سب سے بڑا پودا یہی ہے۔

بہرحال اس پودے کے مختلف حصوں کے ڈی این اے ٹیسٹ سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ ایک ہی پودا ہے، جو پھیل رہا ہے۔ ماہر نباتات کے مطابق سمندر میں موجود ایسے پودے یا تو تولیدی عمل سے پھلتے ہیں یا ان کی جڑی اتنی مضبوط ہو چکی ہوتی ہیں کہ وہ اپنا سائز حیرت انگیز حد تک بڑا کر لیتے ہیں۔

اس پودے کو دریافت کرنے والے ماہرین نے بتایا ہے کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یہ کتنا پرانا ہے۔ تاہم اس پودے کے سائز اور نشوونما کا مطالعہ کرنے کے بعد ایک اندازہ ہے کہ یہ پودا کم ازکم ساڑھے چار ہزار سال پرانا ہو سکتا ہے۔

سمندری حیات میں سی گراس کا انتہائی اہم قرار دیا جاتا ہے۔ یہ پودے ساحلی علاقوں کو سمندری طوفانوں میں محفوظ بنانے کا کام کرتے ہیں جبکہ کاربن کی ایک بڑی مقدار جذب کر لیتے ہیں۔

یہ پودے حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات کو محفوظ بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ نباتات ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات سے مطابقت پیدا کرنے اور موسموں کو شدید ہونے سے بھی روکتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق ایسی نباتات کے مطالعہ سے ماحول اور ایکو سسٹم کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے جبکہ عالمی درجہ حررات میں اضافے اور ماحولیاتی تبدیلوں کو بارے میں کئی راز افشا ہو سکتے ہیں۔

ع ب ، ع ا (خبر رساں ادارے)

ویڈیو دیکھیے 04:00 ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی وجہ سے سمندر کی ہریالی کو خطرات لاحق

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More