پاک سوزوکی کا بھی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

اردو نیوز  |  Aug 16, 2022

پاک سوزوکی کمپنی نے اپنی مختلف ماڈل کی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ نئی قیمتوں کے مطابق پاک سوزکی کی مختلف ماڈل کی گاڑیوں کی قیمتوں میں 75 ہزار فی یونٹ سے ایک لاکھ 99 ہزار فی یونٹ تک کی کمی کی گئی ہے۔

کمپنی نے آلٹو وی ایک کی قیمت میں 90 ہزار، آلٹو وی ایکس آر کی قیمت میں ایک لاکھ 30 ہزار، آلٹو وی ایکس آر اے جی ایس کی قیمت میں ایک لاکھ 16 ہزار، کلٹس اے جی ایس کی قیمت میں ایک لاکھ 45 ہزار، کلٹس وی ایکس ایل کی قیمت میں ایک لاکھ 35 ہزار، کلٹکس ای ایکس آر کی قیمت میں ایک لاکھ 25 ہزار، ویگین آر اے جی ایس کی قیمت میں ایک لاکھ 47 ہزار، ویگن آر وی ایکس ایل کی قیمت میں ایک لاکھ 35 ہزار اور ویگن آر وی ایکس آر کی قیمت میں ایک لاکھ 28 ہزار فی یونٹ کمی کی گئی ہے۔

سوفٹ جی ایل مینول کی قیمت میں ایک لاکھ 69 ہزار، سوفٹ جی ایل سی وی ٹی ایک لاکھ 79 ہزار، سوفٹ جی ایل ایکس سی وی ٹی کی قیمت میں ایک لاکھ 99 ہزار، بولان وی ایکس کی قیمت میں 79 ہزار، بولان کارگو کی قیمت میں 79 ہزار اور راوی کی قیمت میں 75 ہزار کمی کی گئی ہے۔

کمپنی کے اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق نئی قیمتوں کا اطلاق 16 اگست سے ہوگا۔

آٹو دیلرز کے مطابق گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی حالیہ دنوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مسلسل اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔

خیال رہے 15 اگست کو ٹویوٹا  کمپنی نے بھی اپنی مختلف ماڈل کی گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑی کمی کر دی تھی۔

کمپنی کے اعلان کردہ نئی قیمتوں کے مطابق ٹویوٹا نے اپنی مختلف ماڈل کی قیمتوں میں دو لاکھ 60 ہزار فی یونٹ سے 11 لاکھ 40 ہزار روپے فی یونٹس تک کمی کی تھی۔

ٹویوٹا کے ہیلکس ریو کے ماڈل کی مختلف ویریئنٹ کی قیمتوں میں چھ لاکھ 50 ہزار سے لے کر 8 لاکھ 20 ہزار تک کی کمی کی گئی تھی۔

اس طرح ٹویوٹا فارچونر ماڈل کی مختلف ویریئنٹ کی قیمتوں میں 9 لاکھ 10 ہزار سے لے کر 11 لاکھ 40 ہزار تک کی کمی کی گئی تھی۔

ٹویوٹا یارس ماڈل کی مختلف ویریئنٹ کی قیمتوں میں دو لاکھ 60 ہزار سے لے کر 3 لاکھ 10 ہزار تک کمی کی گئی تھی۔

کمپنی نے ٹویوٹا کرولا ماڈل کی مختلف ویریئنٹ کی قیمتوں میں تین لاکھ 30 ہزار سے لے کر چار لاکھ 40 ہزار تک کمی کی تھی۔

نئی قیمتوں کا اطلاق 15 اگست سے ہوگیا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More