Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

مسکرا کر چلو کھلکھلا کر چلو
مسکرا کر چلو کھلکھلا کر چلو
دل کسی کا مگر نہ دکھا کر چلو
آج رو کر تو دکھائے کوئی ایسا رونا
آج رو کر تو دکھائے کوئی ایسا رونا
یاد کر اے دل خاموش وہ اپنا رونا

رقص کرنا کبھی خوابوں کے شبستانوں میں
کبھی یادوں کے ستونوں سے لپٹنا رونا

تجھ سے سیکھے کوئی رونے کا سلیقہ اے ابر
کہیں قطرہ نہ گرانا کہیں دریا رونا

رسم دنیا بھی وہی راہ تمنا بھی وہی
وہی مل بیٹھ کے ہنسنا وہی تنہا رونا

یہ ترا طور سمجھ میں نہیں آیا مشتاقؔ
کبھی ہنستے چلے جانا کبھی اتنا رونا
Barishon Main Chalny Sy Ik Bat Yad Ati Hai
Barishon Main Chalny Sy Ik Bat Yad Ati Hai
Phisalny K Khof Sy Wo Hath Tham Leta Tha
Each Year Your Birthday Reminds Me That I Really Want To Say
Each Year Your Birthday Reminds Me, That I Really Want To Say
I'm Very Glad I Know You, I Think Of You Each Day.
Phool Khilte Rahein Zindgi Ki Raah Mein
Phool Khilte Rahein Zindgi Ki Raah Mein
Hassi Chamakti Rahe Aapki Nigaah Mein
MAA Ki Duaan Aisa Rang Laay
MAA Ki Duaan Aisa Rang Laay
K Hum Khuda K Har Azaab Se Bach Jay
تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا
تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا
دل میں ترے وہ ذوق محبت نہیں رہا

پھر نغمہ ہائے قم تو فضا میں ہیں گونجتے
تو ہی حریف ذوق سماعت نہیں رہا

آئیں کہاں سے آنکھ میں آتش چکانیاں
دل آشنائے سوز محبت نہیں رہا

گل ہائے حسن یار میں دامن کش نظر
میں اب حریص گلشن جنت نہیں رہا

شاید جنوں ہے مائل فرزانگی مرا
میں وہ نہیں وہ عالم وحشت نہیں رہا

ممنون ہوں میں تیرا بہت مرگ ناگہاں
میں اب اسیر گردش قسمت نہیں رہا

جلوہ گہہ خیال میں وہ آ گئے ہیں آج
لو میں رہین زحمت خلوت نہیں رہا

کیا فائدہ ہے دعوئے عشق حسین سے
سر میں اگر وہ شوق شہادت نہیں رہا
کعبے سے نہ رغبت ہمیں نے دیر کی خواہش
کعبے سے نہ رغبت ہمیں نے دیر کی خواہش
ہم خانۂ دل میں جو اسے پائے ہوئے ہیں
Hum Ne Tujhe Dekha Nahi Kya Eid Manaen
Hum Ne Tujhe Dekha Nahi Kya Eid Manaen
jis ne tujhe dekha ho use Eid Mubarak
Khushi Hai Sab Ko Roz-e-Eid Ki Yaan
Khushi Hai Sab Ko Roz-e-Eid Ki Yaan
hue hain mil ke baham ashna khush
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا
اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا
اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا
جس پر تیرا نام لکھا ہے اس تارے کو ڈھونڈوں گا

تم بھی ہر شب دیا جلا کر پلکوں کی دہلیز پہ رکھنا
میں بھی روز اک خواب تمہارے شہر کی جانب بھیجوں گا

ہجر کے دریا میں تم پڑھنا لہروں کی تحریریں بھی
پانی کی ہر سطر پہ میں کچھ دل کی باتیں لکھوں گا

جس تنہا سے پیڑ کے نیچے ہم بارش میں بھیگے تھے
تم بھی اس کو چھو کے گزرنا میں بھی اس سے لپٹوں گا

خواب مسافر لمحوں کے ہیں ساتھ کہاں تک جائیں گے
تم نے بالکل ٹھیک کہا ہے میں بھی اب کچھ سوچوں گا

بادل اوڑھ کے گزروں گا میں تیرے گھر کے آنگن سے
قوس قزح کے سب رنگوں میں تجھ کو بھیگا دیکھوں گا

بے موسم بارش کی صورت دیر تلک اور دور تلک
تیرے دیار حسن پہ میں بھی کن من کن من برسوں گا

شرم سے دہرا ہو جائے گا کان پڑا وہ بندا بھی
باد صبا کے لہجے میں اک بات میں ایسی پوچھوں گا

صفحہ صفحہ ایک کتاب حسن سی کھلتی جائے گی
اور اسی کی لے میں پھر میں تم کو ازبر کر لوں گا

وقت کے اک کنکر نے جس کو عکسوں میں تقسیم کیا
آب رواں میں کیسے امجدؔ اب وہ چہرہ جوڑوں گا
زندگی اپنی جب
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
Kaash Tu Meri Aankhon Ka Aansu Ban Jaye
Kaash Tu Meri Aankhon Ka Aansu Ban Jaye,
Main Rona Chor Dun Tujhe Khone Ke Darr Se
Another year has passed, A birthday for you is in store
Another year has passed, A birthday for you is in store
May you find this coming year, Be one with lots of open doors.
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے
اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے

چمک رہا ہے افق تک غبار تیرہ شبی
کوئی چراغ سفر پر روانہ ہو گیا ہے

ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی
ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے

غرض کہ پوچھتے کیا ہو مآل سوختگاں
تمام جلنا جلانا فسانہ ہو گیا ہے

فضائے شوق میں اس کی بساط ہی کیا تھی
پرند اپنے پروں کا نشانہ ہو گیا ہے

کسی نے دیکھے ہیں پت جھڑ میں پھول کھلتے ہوئے
دل اپنی خوش نظری میں دوانہ ہو گیا ہے
کب ضیا بار ترا چہرۂ زیبا ہوگا
کب ضیا بار ترا چہرۂ زیبا ہوگا
کیا جب آنکھیں نہ رہیں گی تو اجالا ہوگا

مشغلہ اس نے عجب سونپ دیا ہے یارو
عمر بھر سوچتے رہیے کہ وہ کیسا ہوگا

جانے کس رنگ سے روٹھے گی طبیعت اس کی
جانے کس ڈھنگ سے اب اس کو منانا ہوگا

اس طرف شہر ادھر ڈوب رہا تھا سورج
کون سیلاب کے منظر پہ نہ رویا ہوگا

یہی انداز تجارت ہے تو کل کا تاجر
برف کے باٹ لیے دھوپ میں بیٹھا ہوگا

دیکھنا حال ذرا ریت کی دیواروں کا
جب چلی تیز ہوا ایک تماشا ہوگا

آستینوں کی چمک نے ہمیں مارا انورؔ
ہم تو خنجر کو بھی سمجھے ید بیضا ہوگا
پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
دونوں ہی کو امجد ہم نے بچتے دیکھا کم

تاریکی کے ہاتھ پہ بیعت کرنے والوں کا
سُورج کی بس ایک کِرن سے گھُٹ جاتا ہے دَم

رنگوں کو کلیوں میں جینا کون سکھاتا ہے!
شبنم کیسے رُکنا سیکھی! تِتلی کیسے رَم!

آنکھوں میں یہ پَلنے والے خواب نہ بجھنے پائیں
دل کے چاند چراغ کی دیکھو‘ لَو نہ ہو مدّھم

ہنس پڑتا ہے بہت زیادہ غم میں بھی انساں
بہت خوشی سے بھی تو آنکھیں ہو جاتی ہیں نم
اور اب یہ کہتا ہوں یہ جرم تو روا رکھتا
اور اب یہ کہتا ہوں یہ جرم تو روا رکھتا
میں عمر اپنے لیے بھی تو کچھ بچا رکھتا

خیال صبحوں کرن ساحلوں کی اوٹ سدا
میں موتیوں جڑی بنسی کی لے جگا رکھتا

جب آسماں پہ خداؤں کے لفظ ٹکراتے
میں اپنی سوچ کی بے حرف لو جلا رکھتا

ہوا کے سایوں میں ہجر اور ہجرتوں کے وہ خواب
میں اپنے دل میں وہ سب منزلیں سجا رکھتا

انہیں حدوں تک ابھرتی یہ لہر جس میں ہوں میں
اگر میں سب یہ سمندر بھی وقت کا رکھتا

پلٹ پڑا ہوں شعاعوں کے چیتھڑے اوڑھے
نشیب زینۂ ایام پر عصا رکھتا

یہ کون ہے جو مری زندگی میں آ آ کر
ہے مجھ میں کھوئے مرے جی کو ڈھونڈتا رکھتا

غموں کے سبز تبسم سے کنج مہکے ہیں
سمے کے سم کے ثمر ہیں میں اور کیا رکھتا

کسی خیال میں ہوں یا کسی خلا میں ہوں
کہاں ہوں کوئی جہاں تو مرا پتا رکھتا

جو شکوہ اب ہے یہی ابتدا میں تھا امجدؔ
کریم تھا مری کوشش میں انتہا رکھتا
اپنے دامانِ محبت میں جگہ دے دیجئے
اپنے دامانِ محبت میں جگہ دے دیجئے
آپ کا ساتھ میرے سَر کا تاج ہو جائے

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.