Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

Apni Baton Mn Mere Naam Ke Hawle Likhna Ay Dost
Apni Baton Mn Mere Naam Ke Hawle Likhna Ay Dost
Mn Tujse Door Hn Khud Ko Sanbhale Rkhna
زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا
زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا
طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی
Hasrat Hai Sirf Unhe Pane Ki Aur Koi Khwahish Nahi Is Deewane Ki
Hasrat Hai Sirf Unhe Pane Ki Aur Koi Khwahish Nahi Is Deewane Ki
Shikwa Mujhe Unse Nahi Khuda Se Hai Kya Zarurat Thi Unhe Itna Haseen Banane Ki
جب بھی آنکھوں میں ترے وصل کا لمحہ چمکا
جب بھی آنکھوں میں ترے وصل کا لمحہ چمکا
چشم بے آب کی دہلیز پہ دریا چمکا

فصل گل آئی کھلے باغ میں خوشبو کے علم
دل کے ساحل پہ ترے نام کا تارا چمکا

عکس بے نقش ہوئے آئنے دھندلانے لگے
درد کا چاند سر بام تمنا چمکا

رنگ آزاد ہوئے گل کی گرہ کھلتے ہی
ایک لمحے میں عجب باغ کا چہرا چمکا

پیرہن میں بھی ترا حسن نہ تھا حشر سے کم
جب کھلے بند قبا اور ہی نقشہ چمکا

دل کی دیوار پہ اڑتے رہے ملبوس کے رنگ
دیر تک ان میں تری یاد کا سایا چمکا

روح کی آنکھ چکا چوند ہوئی جاتی ہے
کس کی آہٹ کا مرے کان میں نغمہ چمکا

لہریں اٹھ اٹھ کے مگر اس کا بدن چومتی تھیں
وہ جو پانی میں گیا خوب ہی دریا چمکا

ہجر پنپا نہ ترا وصل ہمیں راس آیا
کسی میدان میں تارا نہ ہمارا چمکا

جیسے بارش سے دھلے صحن گلستاں امجدؔ
آنکھ جب خشک ہوئی اور وہ چہرا چمکا
مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے
مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے
وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے

جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترے
اے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے

اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے
اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے

روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جگ بیت گئے
عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے

دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن
عمر بھر کون جواں کون حسیں رہتا ہے
ہمیں کیوں ایسا ایسا لگ رہا ہے
ہمیں کیوں ایسا ایسا لگ رہا ہے
کہ وہ ہم سے خفا خفا لگ رہا ہے
Suna hai aap ki Muskurahat par har koi marta hai
Suna hai aap ki Muskurahat par har koi marta hai
Zara sa time nikaal kar ao "Choha" Marwana hay
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے اک کھیل ہے اورنگ سلیماں مرے نزدیک اک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے جز نام نہیں صورت عالم مجھے منظور جز وہم نہیں ہستیٔ اشیا مرے آگے ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے سچ کہتے ہو خودبین و خود آرا ہوں نہ کیوں ہوں بیٹھا ہے بت آئنہ سیما مرے آگے پھر دیکھیے انداز گل افشانیٔ گفتار رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے نفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا کیوں کر کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام مجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے آئی شب ہجراں کی تمنا مرے آگے ہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہو
آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا
غالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے
Rafta Rafta Hawae'n Rukh Badil Rahi Hain Apna
Rafta Rafta Hawae'n Rukh Badil Rahi Hain Apna
Tum Bhi Sambhal Jao Iss Baarish Say Pehly
Baap Aik Aisa Shajar Hai Jiske
Baap Aik Aisa Shajar Hai Jiske
Saye Ma Betian Raj Karti Hain
آج کا دن ہے کیا کمال
آج کا دن ہے کیا کمال بس مجھے اس لڑکی کا ہے خیال
سالگرہ ہے اُس کی معلوم ہے یار اس ماہ جنوری کا عجب ہے کمال
Teri Nazroon Ka Wusal Itna Bhi Asaan Nhi
Teri Nazroon Ka Wusal Itna Bhi Asaan Nhi
Honi K Hony Ka Taqdeer Ko Bhi Imkan Nhi
Barishon Main Chalny Sy Ik Bat Yad Ati Hai
Barishon Main Chalny Sy Ik Bat Yad Ati Hai
Phisalny K Khof Sy Wo Hath Tham Leta Tha
غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں

نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا
یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں

ہر طرف دیوار و در اور ان میں آنکھوں کے ہجوم
کہہ سکے جو دل کی حالت وہ لب گویا نہیں

جرم آدم نے کیا اور نسل آدم کو سزا
کاٹتا ہوں زندگی بھر میں نے جو بویا نہیں

جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیرؔ
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں
پہلے سے ہوں تنہا سا تنہا
پہلے سے ہوں تنہا سا تنہا جہان میں
ھے خدا کا واسطہ اور اکیلا نہ کر مجھے
Sath Wo Raha Mere Chand Roz Mohabbat Kerne Ke Liy
Sath Wo Raha Mere Chand Roz Mohabbat Kerne Ke Liy
Ba Izaat Ly Gya Tha Wo Ghar Se Be Izaat Kerne Ke Liy
تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے
تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے
کچھ بھنور ڈوب گئے پانی میں چکراتے ہوئے

ہم نے تو رات کو دانتوں سے پکڑ کر رکھا
چھینا جھپٹی میں افق کھلتا گیا جاتے ہوئے

میں نہ ہوں گا تو خزاں کیسے کٹے گی تیری
شوخ پتے نے کہا شاخ سے مرجھاتے ہوئے

حسرتیں اپنی بلکتیں نہ یتیموں کی طرح
ہم کو آواز ہی دے لیتے ذرا جاتے ہوئے

سی لیے ہونٹ وہ پاکیزہ نگاہیں سن کر
میلی ہو جاتی ہے آواز بھی دہراتے ہوئے
Hum Ne Tujhe Dekha Nahi Kya Eid Manaen
Hum Ne Tujhe Dekha Nahi Kya Eid Manaen
jis ne tujhe dekha ho use Eid Mubarak
اقبال کا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
اب تیرا بھی دور آنے کو ہے اے فقرِ غیّور
کھا گئی روحِ فرنگی کو ہوائے سیم و زر
خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئے
خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئے
یہ تماشا اب سر بازار ہونا چاہئے

خواب کی تعبیر پر اصرار ہے جن کو ابھی
پہلے ان کو خواب سے بیدار ہونا چاہئے

ڈوب کر مرنا بھی اسلوب محبت ہو تو ہو
وہ جو دریا ہے تو اس کو پار ہونا چاہئے

اب وہی کرنے لگے دیدار سے آگے کی بات
جو کبھی کہتے تھے بس دیدار ہونا چاہئے

بات پوری ہے ادھوری چاہئے اے جان جاں
کام آساں ہے اسے دشوار ہونا چاہئے

دوستی کے نام پر کیجے نہ کیونکر دشمنی
کچھ نہ کچھ آخر طریق کار ہونا چاہئے

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئے

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.