Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

جمع ہم نے کیا ہے غم دل میں
جمع ہم نے کیا ہے غم دل میں
اس کا اب سود کھائے جائیں گے
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیں
دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیں
پر حسن بتاں دیکھ کے گھبرائے ہوئے ہیں
"Us" Ny Mujh Se Pucha
"Us" Ny Mujh Se Pucha: "Kiya Tum Ab Bhi Mujh Se Piyar Kerty Ho.?"
Me Ny Kaha: "Piyar Ka To Pata Nahi Magar Log Aaj Bhi Mujhy Teri Hi Qasam Dete Hen
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے اک کھیل ہے اورنگ سلیماں مرے نزدیک اک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے جز نام نہیں صورت عالم مجھے منظور جز وہم نہیں ہستیٔ اشیا مرے آگے ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے سچ کہتے ہو خودبین و خود آرا ہوں نہ کیوں ہوں بیٹھا ہے بت آئنہ سیما مرے آگے پھر دیکھیے انداز گل افشانیٔ گفتار رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے نفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا کیوں کر کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام مجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے آئی شب ہجراں کی تمنا مرے آگے ہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہو
آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا
غالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے
Jab Bhi Is Zamany NY Dukh Diye Tum Yad ai Ho Maan
Jab Bhi Is Zamany NY Dukh Diye Tum Yad ai Ho Maa Jab Mujhy Thukraya Mere Apnu Nay Tab Tum Yad ai Ho Maa
صحرا کو بڑا عالم ھے اپنی تنہائی پر غالب
صحرا کو بڑا عالم ھے اپنی تنہائی پر غالب
اس نے دیکھا نہں عالم میری تنہائی کا
اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے
اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے
زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے

یہ ہنستا ہوا چاند یہ پر نور ستارے
تابندہ و پایندہ ہیں ذروں کے سہارے

حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے
ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے

ہر صبح مری صبح پہ روتی رہی شبنم
ہر رات مری رات پہ ہنستے رہے تارے

کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں
کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے
تیرے قریب آکے بڑی الجھنوں میں ہوں میں دشمنوں میں ہوں کہ ترے دوستوں میں ہوں
تیرے قریب آکے بڑی الجھنوں میں ہوں
میں دشمنوں میں ہوں کہ ترے دوستوں میں ہوں
Lagta Nahi Hai Dil Mera Ab Kitaab Mein
Lagta Nahi Hai Dil Mera Ab Kitaab Mein
Kese Yaad Karun Yeh Asbaaq Mein
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا
اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا
جس پر تیرا نام لکھا ہے اس تارے کو ڈھونڈوں گا

تم بھی ہر شب دیا جلا کر پلکوں کی دہلیز پہ رکھنا
میں بھی روز اک خواب تمہارے شہر کی جانب بھیجوں گا

ہجر کے دریا میں تم پڑھنا لہروں کی تحریریں بھی
پانی کی ہر سطر پہ میں کچھ دل کی باتیں لکھوں گا

جس تنہا سے پیڑ کے نیچے ہم بارش میں بھیگے تھے
تم بھی اس کو چھو کے گزرنا میں بھی اس سے لپٹوں گا

خواب مسافر لمحوں کے ہیں ساتھ کہاں تک جائیں گے
تم نے بالکل ٹھیک کہا ہے میں بھی اب کچھ سوچوں گا

بادل اوڑھ کے گزروں گا میں تیرے گھر کے آنگن سے
قوس قزح کے سب رنگوں میں تجھ کو بھیگا دیکھوں گا

بے موسم بارش کی صورت دیر تلک اور دور تلک
تیرے دیار حسن پہ میں بھی کن من کن من برسوں گا

شرم سے دہرا ہو جائے گا کان پڑا وہ بندا بھی
باد صبا کے لہجے میں اک بات میں ایسی پوچھوں گا

صفحہ صفحہ ایک کتاب حسن سی کھلتی جائے گی
اور اسی کی لے میں پھر میں تم کو ازبر کر لوں گا

وقت کے اک کنکر نے جس کو عکسوں میں تقسیم کیا
آب رواں میں کیسے امجدؔ اب وہ چہرہ جوڑوں گا
انسان
مٹا دی اپنی ھستی کو اگر کچھ مرتبہ چاھے
کے دانہ خاک میں ملکر گل و گلزار بنتا ھے
Africa Main Ek Kaly Shohar Nay
Africa Main Ek Kaly Shohar Nay Apni Kali Biwi Ko Kali Rat Main
Kaly Samandar Kay Pas Bary Pyar Say Pocha Darling Bethi Ho Ya Chali Gai
Another year has passed, A birthday for you is in store
Another year has passed, A birthday for you is in store
May you find this coming year, Be one with lots of open doors.
Kaun Kehta Hai Zayifi Me Dukhi Maa Baap Hain
Kaun Kehta Hai Zayifi Me Dukhi Maa Baap Hain
Mein To Kehta Hoon Her Ek Ghar Ki Khushi Maa Baap Hain
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا
گرمی سہی کلام میں مگر نا اتنی سہی
گرمی سہی کلام میں مگر نا اتنی سہی
کی جس سے بات اسنے شکایت ضرور کی
جہاں دیکھو عشق کے بیمار بیٹھے ہیں
جہاں دیکھو عشق کے بیمار بیٹھے ہیں
ہزاروں مر کر بھی لاکھوں تیار بیٹھے ہیں
حسین چہرے کی تابندگی مبارک ہو
حسین چہرے کی تابندگی مبارک ہو
تجھے یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.