Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

شراب
کیوں ڈھونڈتا پھرتا ہے پینے کو تو شراب
حرام شے ہے یہ اِسکی کوئی جگہ ہی نہیں
فِلِسطِینی مسلمانوں کو مرتا دیکھ کر دیپک
فِلِسطِینی مسلمانوں کو مرتا دیکھ کر دیپک
عَرَب خاموش ہی بیٹھا رہا تو زلزلے آئے
Dekho Duniya Walo Esi Hoti Hai Maa
Dekho Duniya Walo Esi Hoti Hai Maa
Khud Rooti Hai Mujh Hansati Hai Maa
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
Qaafley Se Bhrosa Uthana Para
Qaafley Se Bhrosa Uthana Para
Apna Rasta Mujhe Khud Banana Para
غالب
عشق نے نکما بنا دیا غالب ورنہ
ہم بھی بھڑے کام کے آدمی تھے
بات میری کبھی سنی ہی نہیں
بات میری کبھی سنی ہی نہیں
جانتے وہ بری بھلی ہی نہیں

دل لگی ان کی دل لگی ہی نہیں
رنج بھی ہے فقط ہنسی ہی نہیں

لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہد
ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں

اڑ گئی یوں وفا زمانے سے
کبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں

جان کیا دوں کہ جانتا ہوں میں
تم نے یہ چیز لے کے دی ہی نہیں

ہم تو دشمن کو دوست کر لیتے
پر کریں کیا تری خوشی ہی نہیں

ہم تری آرزو پہ جیتے ہیں
یہ نہیں ہے تو زندگی ہی نہیں

دل لگی دل لگی نہیں ناصح
تیرے دل کو ابھی لگی ہی نہیں

داغؔ کیوں تم کو بے وفا کہتا
وہ شکایت کا آدمی ہی نہیں
اقبال کا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
اب تیرا بھی دور آنے کو ہے اے فقرِ غیّور
کھا گئی روحِ فرنگی کو ہوائے سیم و زر
کب ضیا بار ترا چہرۂ زیبا ہوگا
کب ضیا بار ترا چہرۂ زیبا ہوگا
کیا جب آنکھیں نہ رہیں گی تو اجالا ہوگا

مشغلہ اس نے عجب سونپ دیا ہے یارو
عمر بھر سوچتے رہیے کہ وہ کیسا ہوگا

جانے کس رنگ سے روٹھے گی طبیعت اس کی
جانے کس ڈھنگ سے اب اس کو منانا ہوگا

اس طرف شہر ادھر ڈوب رہا تھا سورج
کون سیلاب کے منظر پہ نہ رویا ہوگا

یہی انداز تجارت ہے تو کل کا تاجر
برف کے باٹ لیے دھوپ میں بیٹھا ہوگا

دیکھنا حال ذرا ریت کی دیواروں کا
جب چلی تیز ہوا ایک تماشا ہوگا

آستینوں کی چمک نے ہمیں مارا انورؔ
ہم تو خنجر کو بھی سمجھے ید بیضا ہوگا
آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
طاقت بیداد انتظار نہیں ہے

دیتے ہیں جنت حیات دہر کے بدلے
نشہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے

گریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو
ہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے

ہم سے عبث ہے گمان رنجش خاطر
خاک میں عشاق کی غبار نہیں ہے

دل سے اٹھا لطف جلوہ ہائے معانی
غیر گل آئینۂ بہار نہیں ہے

قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارے
وائے اگر عہد استوار نہیں ہے

تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالبؔ
تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے
درد کی اپنی قید
درد کی اپنی قید سے رہا کر مجھے
مر جائوں گا قسم سے جدا نہ کر مجھے
غرض نشاط ہے شغل شراب سے جن کي
غرض نشاط ہے شغل شراب سے جن کي
حلال چيز کو گويا حرام کرتے ہيں
ملا جو موقع تو روک دوں گا جلالؔ روز حساب تیرا
ملا جو موقع تو روک دوں گا جلالؔ روز حساب تیرا
پڑھوں گا رحمت کا وہ قصیدہ کہ ہنس پڑے گا عتاب تیرا

یہی تو ہیں دو ستون محکم انہیں پہ قائم ہے نظم عالم
یہی تو ہے راز خلد و آدم نگاہ میری شباب تیرا

صبا تصدق ترے نفس پر چمن ترے پیرہن پہ قرباں
نسیم دوشیزگی میں کیسا بسا ہوا ہے شباب تیرا

تمام محفل کے روبرو گو اٹھائیں نظریں ملائیں آنکھیں
سمجھ سکا ایک بھی نہ لیکن سوال میرا جواب تیرا

ہزار شاخیں ادا سے لچکیں ہوا نہ تیرا سا لوچ پیدا
شفق نے کتنے ہی رنگ بدلے ملا نہ رنگ شباب تیرا

ادھر مرا دل تڑپ رہا ہے تری جوانی کی جستجو میں
ادھر مرے دل کی آرزو میں مچل رہا ہے شباب تیرا

کرے گی دونوں کا چاک پردہ رہے گا دونوں کو کر کے رسوا
یہ شورش ذوق دید میری یہ اہتمام حجاب تیرا

جڑیں پہاڑوں کی ٹوٹ جاتیں فلک تو کیا عرش کانپ اٹھتا
اگر میں دل پر نہ روک لیتا تمام زور شباب تیرا

بھلا ہوا جوشؔ نے ہٹایا نگاہ کا چشم تر سے پردہ
بلا سے جاتی رہیں گر آنکھیں کھلا تو بند نقاب تیرا
محبت اصل میں ہے روح کا بیدار ہو جانا
محبت اصل میں ہے روح کا بیدار ہو جانا
کسی اور کا اس کو ہونے نہ دوں گا
کسی اور کا اس کو ہونے نہ دوں گا یہ پیمان اپنا نبھانے چلا ہوں
اسے صرف اپنا بنا کر میں جہاں بھر سے جھگڑا مٹانے چلا ہوں
Qaafley Se Bhrosa Uthana Para
Qaafley Se Bhrosa Uthana Para
Apna Rasta Mujhe Khud Banana Para
اپنے دامانِ محبت میں جگہ دے دیجئے
اپنے دامانِ محبت میں جگہ دے دیجئے
آپ کا ساتھ میرے سَر کا تاج ہو جائے
گرمی سہی کلام میں مگر نا اتنی سہی
گرمی سہی کلام میں مگر نا اتنی سہی
کی جس سے بات اسنے شکایت ضرور کی
چپ چاپ اپنی آگ میں جلتے رہو فرازؔ
چپ چاپ اپنی آگ میں جلتے رہو فرازؔ
دنیا تو عرض حال سے بے آبرو کرے
اپنے دل سے جدا نہیں کرتے
اپنے دل سے جدا نہیں کرتے ھم کسی کو خفا نہیں کرتے
رازداری بہت ضروری ھے سب سے سب کچھ کہا نہیں کرتے

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.