Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

Rafta Rafta Hawae'n Rukh Badil Rahi Hain Apna
Rafta Rafta Hawae'n Rukh Badil Rahi Hain Apna
Tum Bhi Sambhal Jao Iss Baarish Say Pehly
خوشیوں بھرا ہر سال تمہارا ہو یہ آج یہ کل تمہارا ہو
خوشیوں بھرا ہر سال تمہارا ہو یہ آج یہ کل تمہارا ہو
کریں جو چاند ستارے گفتگو تو باتوں میں بھی انکی
Ek Chingaari Bechari Kahin Jal Bhuj Rahi Hai
Ek Chingaari Bechari Kahin Jal Bhuj Rahi Hai
Dil Ki Ye Rahdaari Kahin Jal Bhuj Rahi Hai
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
نہ تو زمین کے لیے ہے نہ تو آسمان کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
Mat Kar Nahin Nahin Ye Wakat Ni Nahin Ka
Mat Kar Nahin Nahin Ye Wakat Ni Nahin Ka,
Tery Is Nahin Nahin Ne Ham Ko Chora Ni Kahin Ka
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے اک کھیل ہے اورنگ سلیماں مرے نزدیک اک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے جز نام نہیں صورت عالم مجھے منظور جز وہم نہیں ہستیٔ اشیا مرے آگے ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے سچ کہتے ہو خودبین و خود آرا ہوں نہ کیوں ہوں بیٹھا ہے بت آئنہ سیما مرے آگے پھر دیکھیے انداز گل افشانیٔ گفتار رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے نفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا کیوں کر کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام مجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے آئی شب ہجراں کی تمنا مرے آگے ہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہو
آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا
غالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے
شراب
کیوں ڈھونڈتا پھرتا ہے پینے کو تو شراب
حرام شے ہے یہ اِسکی کوئی جگہ ہی نہیں
Guzar Gayi Namaz-e-Fajar Or Tu Sota Raha
Guzar Gayi Namaz-e-Fajar Or Tu Sota Raha
Qeemti Waqt Khuwabon Mein Khota Raha
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیونکر
اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیونکر
مجھے معلوم کیا وہ رازداں تیرا ہے یا میرا
پوچھو مجھ سے میرے ملک میں کیا ہے
پوچھو مجھ سے میرے ملک میں کیا ہے
وسائل تو بہت ہیں مگر مہیا ہمیں کیا ہے
چڑیا چھو چھو کرتی دانے كے لیے
چڑیا چھو چھو کرتی دانے كے لیے
میری دوست روتی ہے برتھ ڈے منانے كے لیے
زحال مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں
زحال مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں

شبان ہجراں دراز چوں زلف و روز وصلت چوں عمر کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم بہ برد تسکیں
کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں

چوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں ز مہر آں مہ بگشتم آخر
نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں نہ آپ آوے نہ بھیجے پتیاں

بحق آں مہ کہ روز محشر بداد مارا فریب خسروؔ
سپیت من کے دورائے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کی کھتیاں
کیوں تمہیں لگتا ہے تمہیں ہم تُم سے چُرا لیں گے
کیوں تمہیں لگتا ہے تمہیں ہم تُم سے چُرا لیں گے
سُنو! تُم پہلے ہی ہم ہو، ہمیں ہم تُم ہی رہنے دو
چاند کی دُوری
چاند کی دُوری ! وہ تیرے پاس
اب شرما کر نہ کہہ دینا ! تارے توڑ لاؤ
پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
دونوں ہی کو امجد ہم نے بچتے دیکھا کم

تاریکی کے ہاتھ پہ بیعت کرنے والوں کا
سُورج کی بس ایک کِرن سے گھُٹ جاتا ہے دَم

رنگوں کو کلیوں میں جینا کون سکھاتا ہے!
شبنم کیسے رُکنا سیکھی! تِتلی کیسے رَم!

آنکھوں میں یہ پَلنے والے خواب نہ بجھنے پائیں
دل کے چاند چراغ کی دیکھو‘ لَو نہ ہو مدّھم

ہنس پڑتا ہے بہت زیادہ غم میں بھی انساں
بہت خوشی سے بھی تو آنکھیں ہو جاتی ہیں نم
آپ کا اعتبار کون کرے
آپ کا اعتبار کون کرے
روز کا انتظار کون کرے

ذکر مہر و وفا تو ہم کرتے
پر تمہیں شرمسار کون کرے

ہو جو اس چشم مست سے بے خود
پھر اسے ہوشیار کون کرے

تم تو ہو جان اک زمانے کی
جان تم پر نثار کون کرے

آفت روزگار جب تم ہو
شکوۂ روزگار کون کرے

اپنی تسبیح رہنے دے زاہد
دانہ دانہ شمار کون کرے

ہجر میں زہر کھا کے مر جاؤں
موت کا انتظار کون کرے

آنکھ ہے ترک زلف ہے صیاد
دیکھیں دل کا شکار کون کرے

وعدہ کرتے نہیں یہ کہتے ہیں
تجھ کو امیدوار کون کرے

داغؔ کی شکل دیکھ کر بولے
ایسی صورت کو پیار کون کرے
آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
طاقت بیداد انتظار نہیں ہے

دیتے ہیں جنت حیات دہر کے بدلے
نشہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے

گریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو
ہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے

ہم سے عبث ہے گمان رنجش خاطر
خاک میں عشاق کی غبار نہیں ہے

دل سے اٹھا لطف جلوہ ہائے معانی
غیر گل آئینۂ بہار نہیں ہے

قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارے
وائے اگر عہد استوار نہیں ہے

تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالبؔ
تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے
Tum Mere Nahi Bata Jao Iss Baarish Say Pehly
Tum Mere Nahi Bata Jao Iss Baarish Say Pehly
Apne Naqsh Sabi Mita Jao Iss Baarish Say Pehly
محبت اصل میں ہے روح کا بیدار ہو جانا
محبت اصل میں ہے روح کا بیدار ہو جانا

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.