’ڈاکٹر سی سیکشن کروانے پر ایسے زور دے رہے تھے جیسے یہ بچہ جننے کا واحد طریقہ ہو‘

بی بی سی اردو  |  Dec 02, 2022

مصر میں دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت بچوں کی پیدائش کے لیے حاملہ خواتین کے سیزیریئن سیکشن (سی سیکشن)  کی شرح بہت زیادہ ہے اور کچھ ڈاکٹروں پر حاملہ خواتین کو اپنی آسانی اور پیسے کمانے کے لیے سی سیکشن کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرنے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔

مائے شامی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے گروپ میں موجود ایک خاتون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ڈاکٹر نے سی سیکشن کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ وہ اپنی سالانہ چھٹیوں میں خلل نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔‘

جس ڈاکٹر کے بارے میں انھوں نے یہ دعویٰ کیا انھوں نے دراصل مبینہ طور پر ایسے وقت میں بچہ ڈلیور کرنے کے بارے میں سوچا جو ان کے لیے بہتر تھا بجائے اس کے کہ وہ قدرتی طور پر اس کی پیدائش معمول کے مطابق ہونے دیتے۔

سیزیریئن سیکشن دراصل بچہ ڈیلیور کرنے کا طریقہ ہے جس میں حاملہ خاتون کے پیٹ اور بچہ دانی پر کٹ لگایا جاتا ہے۔

اس کی تین اقسام ہوتی ہیں:

الیکٹو: یہ ماں کی درخواست پر اور کبھی کبھار غیر طبی وجوہات کی بنا پر کی جاتی ہے۔ پلینڈ: یہ طبی وجوہات کے باعث کی جاتی ہے جیسے یہ کہ یا تو بچے کی پوزیشن غلط ہے یا یہ ضرورت سے زیادہ بڑا ہے۔ ایمرجنسی: یہ عمل بچے کی پیدائش کے دوران پیچیدگیاں پیدا ہونے کی صورت میں کیا جاتا ہے۔

ایک سال قبل مائے نے فیس بک پر ایک پیج کا آغاز کیا جسے انھوں نے ’طبی طور پر غیر مؤثر سیزیریئن کے خاتمے‘ کا نام دیا اور اسے پوری عرب دنیا سے 12 ہزار افراد نے فالو کیا۔

یہ فیصلہ انھوں نے دو برس قبل بچے کی پیدائش کے ذاتی تجربے کے بعد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’ڈاکٹر مجھ پر سیزیریئن سیکشن کروانے کے لیے زور دے رہے تھے جیسے یہ بچے پیدا کرنے کا واحد اور سب سے مؤثر طریقہ ہو۔‘

’حمل کے دوران میں نے ایک سے زیادہ ڈاکٹروں سے رجوع کیا اور زیادہ تر نے مجھے سیزیریئن طریقہ کار اپنانے کے بارے میں کہا۔ اس کی وجوہات میں سے اکثر مردوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے کی جاتی ہیں کیونکہ ان کے مطابق ایک معمول کے مطابق کی جانے والی ڈیلیوری پیدائش دینے کے بعد خاتون کے جنسی تعلق کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔‘

اس دعوے کے حوالے سے تو کم ہی شواہد موجود ہیں تاہم متعدد گائناکالوجسٹس اور آبسٹریٹیشنز جن سے بی بی سی نے بات کی ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ مفروضہ ہے جس کو ڈاکٹروں کی جانب سے خواتین کو سی سیکشن کی جانب راغب کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مائے نے جن ڈاکٹروں سے رجوع کیا انھوں نے سی سیکشن کروانے کے لیے ایک مختلف وجہ بتائی اور کہا کہ ’یہ عام ڈیلیوری سے زیادہ آسان، تیز اور کم تکلیف دہ عمل ہے۔‘

قاہرہ میں گائناکالوجسٹ اور آبسٹیٹریشن ڈاکٹر رانڈا فخردین نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ ڈاکٹروں نے خواتین کو سی سیکشن کروانے کی طرف راغب کرنے کے لیے یہ طریقہ اپنایا کہ انھوں نے عام ڈیلیوری کو سی سیکشن سے زیادہ مہنگا کر دیا۔

ڈاکٹرز عام طور پر ایک دن میں ایک سے زیادہ سی سیکشن بھی کر سکتے ہیں جبکہ قدرتی طور پر کی گئی ڈیلیوری میں کئی گھنٹے بھی لگ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’سی سیکشن‘ ایک آپشن ہے یا پھر ضرورت؟

سی سیکشن: ترقی پذیر ممالک میں ہر سال تین لاکھ خواتین کی جانیں لینے لگا

سی سیکشن: ’مجھے ایسا لگتا تھا میری زندگی ختم ہو گئی‘

مصر کی سوسائٹی برائے گائناکالوجی اور آبسٹیٹرکس کے مطابق نجی ہسپتال جہاں سی سیکشن کروایا جاتا ہے وہاں زیادہ نفع کمایا جاتا ہے بنسبت قدرتی طور پر کی گئی ڈیلیوری سے کیونکہ ان سے زیادہ رقم وصول کی جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ نجی ہسپتالوں میں 80 فیصد ڈیلیوری سی سیکشن سے ہوتی ہیں جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں 40 فیصد سی سیکشن کے باعث ہوتی ہیں۔

مائے نے بچے کی پیدائش قدرتی طور پر کرنے کے لیے بہت زیادہ وقت اس کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں پڑھتے ہوئے گزارے اور اس بات کو یقینی بنایا کہ انھیں کسی طبی وجہ کی بنیاد پر سی سیکشن کی ضرورت نہ ہو۔

ان کے اس انتخاب کو اس ڈاکٹر کی جانب سے بھی توثیق کی گئی جنھوں نے ان کی ڈیلیوری کے آخری دنوں میں ان کا علاج کیا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More