ماں کا دودھ یا ایک سائنسی حیرت کدہ: ایسا قدرتی دودھ جس کی غذائیت وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے

بی بی سی اردو  |  Jul 02, 2022

اپنے بچوں کی عمر کے پہلے پورے ایک سال کے دوران میں نے اپنے دونوں بچوں کو بوتل کے دودھ کی بجائے اپنا دودھ پلایا۔ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ننھے بچوں کے لیے غذائیت سے بھرپور خوراک ماں کا دودھ ہی ہوتا ہے اور یہ چیز بچے کی دماغ کی نشونما، اس کے مدافعتی نظام اور اس کے نظام ہضم کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتی ہے۔ اسی لیے میں بہت خوش تھی کہ میں نے دونوں بچوں کو اپنا دودھ پلایا تھا۔

لیکن جب میں آلودگی کے بارے میں اپنی کتاب کے لیے تحقیق کر رہی تھی اور میں نے اپنا خون ٹیسٹ کرایا تو معلوم ہوا کہ میرے جسم میں ایک عرصے سے زہریلے کیمیائی مادے موجود رہے ہیں۔ مجھے تب پتہ چلا کہ کچھ ایسی جراثیم کش ادویات جن پر تقریباً چالیس پہلے پابندی لگائی جا چکی تھی، ان کی باقیات بھی میرے خون میں موجود تھیں۔

اب اس بات کے شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں کہ خوراک میں شامل کچھ کیمیائی مادے ایسے ہوتے ہیں جو ماں کے دودھ کے ذریعے بچے میں بھی منتقل ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ڈبے کے دودھ میں بھی زہریلے کیمیائی مادے اور مضرِ صحت بیکٹیریا موجود ہو سکتے ہیں۔ اس کی مثالیں ہمیں حالیہ برسوں میں اس وقت دکھائی دیں جب فارمولا مِلک کے کچھ نمونوں پر پابندی لگا دی گئی اور انھیں دکانوں سے واپس کمپنیوں کو بھجوانا پڑا۔

ان باتوں نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہمارے بچے دنیا میں آنے کے بعد جو پہلی خوراک کھاتے ہیں اس میں نہایت مفید اجزاء کے ساتھ ساتھ ایسی کیا چیزیں شامل ہوتی ہیں جو نہ صرف مضرِ صحت بلکہ کبھی کبھی زیریلی بھی ہو سکتی ہیں۔ ان چیزوں کے خطرات سے آگاہی کے بعد یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کے لیے دستیاب خوراک، چاہے وہ ماں کا دودھ ہو یا فارمولا مِلک ہو، ہم اس میں بہتری پیدا کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں تا کہ ہم اپنے بچوں کو ان کی زندگی کے آغاز میں جہاں تک ممکن ہو بہترین خوراک دے سکیں۔

وہ دودھ جو روز بدل جاتا ہے

عالمی ادارۂ صحت کہتا ہے کہ بچے کے لیے پہلی بہترین خوراک ماں کا دودھ ہوتا ہے اور چھ ماہ کی عمر تک بچے کو اس کے علاوہ کچھ اور نہیں دینا چاہیے۔

ماں کے دودھ کے بنیادی اجزا میں پانی، چربی (فیٹ)، لحمیات (پروٹین) کے علاوہ مختلف وٹامنز، معدنیات، خوراک ہضم کرنے والے اینزائم اور ہارمونز شامل ہوتے ہیں۔ تاہم، ماں کا دودھ ایک بڑی متحرک چیز ہے اور اس کے اجزا ہروقت یکساں نہیں رہتے، مثلاً صبح کی نسبت سہ پہر اور شام کے وقت اس میں چربی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ ماں کے دودھ کی ایک ہی خوراک میں بھی رد وبدل ہوتا رہتا ہے۔ جب بچہ شدید بھوک میں غٹا غٹ دودھ پینے لگتا ہے تو دودھ کے پہلے بڑے گھونٹ، جسے فور مِلک بھی کہتے ہیں، وہ پتلے ہوتے ہیں لیکن ان میں لیکٹوز زیادہ ہوتے ہیں۔ یوں بچے کی فوری پیاس بجھ جاتی ہے اور اس کے لیے دودھ پینا آسان ہو جاتا ہے۔

اس کے نتیجے میں پیچھے یا بعد میں آنے والے دودھ (ہائینڈ مِلک) میں بالائی اور چربی کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے۔ ماں کے دودھ میں یہ اتار چڑھاؤ ایک ایسی خوبی ہے جس کی وجہ سے ڈبے والے دودھ میں خاصی ترقی کے باوجوداسے ماں کے دودھ کا نعم البدل بنانا مشکل ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے بچوں کی خوراک کے شعبے سے منسلک، پرفیسر میری فیوٹرل کہتی ہیں کہ ’انسانی دودھ نہ صرف بچے کی دودھ پینے کی عمر کے دوران بلکہ ایک دن، اور ایک خوراک کے دوران اپنی ہیئت بدلتا رہتا ہے، اور اس کا انحصار کسی حد تک ماں کی اپنی خوراک پر بھی ہوتا ہے۔ ان تمام عوامل کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ڈبے کے دودھ میں کون سے اجزا کس مقدار میں شامل ہونا چاہیئں تاکہ وہ آئے روز تبدیل بھی نہ کرنا پڑے۔‘

یہ بھی پڑھیے:

کیا ماں کے دودھ کا متبادل لیبارٹری میں تیار کیا جا سکتا ہے؟

ماں کا دودھ اب سوشل میڈیا پر بھی دستیاب

بچے کو کب تک ماں کا دودھ پلایا جائے؟

امریکی حکومت: ’جہاں تک ممکن ہو بچوں کو ماں کا دودھ ہی پلایا جائے‘

اپنے ایک مضمون میں پروفیسر میری فیوٹرل نے ماں کے دودھ میں شامل ہارمونز، خلیے (سٹیم سیلز)، مائیکرو آر این اے (جینیاتی مواد) جیسی چیزوں کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

یہ اجزا دودھ کی غذائیت میں اضافہ نہیں کرتی نہیں کرتیں 'اور ہمیں ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ ان اجزا کا کردار ہے کیا۔۔۔ لیکن زیادہ امکان یہی ہے کہ ان اجزا کی بدولت ماں اپنے بچے میں اپنے ذاتی تجربات اور خصائل منتقل کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ماں کے دودھ کو ماں کی اپنی پیدا کردہ 'ذاتی خوراک' کہا جاتا ہے۔

Getty Imagesڈبے کے دودھ میں مضر صحت اجزاء کی موجودگی کا خدشہ مسئلے کا صرف ایک پہلو ہے

تاہم، امریکہ میں 80 فیصد سے زیادہ مائیں بچے کی پیدائش کے وقت سے اپنا دودھ پلانا شروع کر دیتی ہیں، لیکن بیماریوں کی روک تھام کے مراکز کے مطابق، یہ شرح چھ ماہ میں 58 فیصد تک گر جاتی ہے۔

صحت کے حکام کی کوشش رہی ہے کہ اس شرح میں اضافہ ہو اور اس حوالے سے ماؤں کی مدد بھی کی جاتی ہے۔ اس کے لیے تالو سے جُڑی زبان (ٹائی ٹنگ) والے بچوں میں اس پیدائشی کیفیت کی تشخیص اور اس کا علاج بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ وہ والدین جو بچے کو ڈبے کا دودھ دیتے ہیں، وہ بھی محکمۂ صحت سے مزید معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

پروفیسر فیوٹرل کے مطابق 'اگرچہ ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین قدرتی غذا ہے اور یہ ماں اور بچہ، دونوں کے لیے فوائد فراہم کرتا ہے، لیکن کچھ خواتین دودھ پلانے سے قاصر ہو سکتی ہیں، ایسا نہ کرنے کا انتخاب کر سکتی ہیں، یا کچھ مائیں جزوی طور پر اپنا دودھ پلانے کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔'

'اگر کسی نوزائدہ بچے کو ماں کا دودھ نہیں دیا جا رہا، یا اس کے ساتھ فارمولا مِلک بھی دیا جا رہا ہے، تو ایسے بچوں کے لیے صرف ایک متبادل خوراک ہو سکتی ہے، اور وہ ہے کوئی ایسا فارمولا مِلک جسے نوزائیدہ بچے کی غذائی ضروریات کو سامنے رکھ کے بنایا گیا ہو اور اس سے بچے کی عمومی نشو ونما ہوتی رہے۔ اس میں توقع یہ ہوتی ہے کہ فارمولا مِلک بناتے وقت اس میں لچک رکھی جائے کیونکہ نوزائیدہ بچوں کی خوراک میں ہر بچے کو 'ایک ہی سائز فِٹ نہیں آتا'۔

بہتر فامولا مِلک بنانے کی کوشش

نوزائیدہ بچوں کے فارمولا ملک کی تیاری نے حالیہ دہائیوں میں ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ پوری 19 ویں صدی اور 20 ویں صدی کے اوائل میں، بوتل کا دودھ پلانے کو بچے کی صحت کے لیے زیادہ اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔

20ویں صدی کے ابتدائی برسوں میں یورپ اور دیگر دنیا کے یتیم خانوں میں تقریباً 80 فیصد ایسے بچے جنھیں بوتل سے دودھ پلایا گیا تھا وہ انفیکشن، یا غذائیت کی کمی کی وجہ سے ایک برس کی عمر سے پہلے ہی مر گئے تھے۔

پہلی مرتبہ فارمولا مِلک سنہ 1865 میں بازار میں فروخت ہوا شروع ہوا تھا اور اس وقت یہ صرف چار اجزا سے بنایا جاتا تھا جن میں گائے کا دودھ، گندم اور باجرے کا آٹا اور پوٹاشیم بائی کاربونیٹ شامل ہوتا تھا۔ تب سے اب تک ڈبے کے دودھ کی غذائیت کے حوالے سے زبردست ترقی ہو چکی ہے۔

تو پھر آج کے فارمولا مِلک میں کیا کچھ ہوتا ہے؟

ڈبے کے دودھ کی زیادہ تر اقسام میں چربی (فیٹ) والے مختلف اجزا استعمال کیے جاتے ہیں جن میں گائے یا بکری کا دودھ (اکثر بالائی کے بغیر)، پام آئل، سورج مکھی کا تیل اور فیٹی ایسڈ شامل ہوتے ہیں۔ یورپی یونین کے قوانین کے مطابق فارمولا مِلک میں اومیگا تھری قسم کی چربی ڈالنا بھی ضروری ہے جو نوزائیدہ بچوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

نشاستہ (کاربوہائیڈیٹس) میں سے انسانی دودھ میں لیکٹوز سب سے زیادہ ہوتا ہے اور فارمولا مِلک میں لیکٹوز عموماً پاؤڈر کی شکل میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں مالٹوڈیکسٹرن نامی نشاستہ بھی شامل کیا جاتا ہے جو مکئی یا آلو سے لیا جاتا ہے۔ برطانیہ میں فارمولا مِلک میں گلوکوز (ایک قسم کی شکر) عام طور پر شامل نہیں کیا جاتا، تاہم امریکہ میں ڈالا جاتا ہے۔ اس میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ شکر سے نوزائیدہ بچوں کے دانت خراب ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ڈبے کے دودھ میں مختلف وٹامِنز (اے، بی، ڈی اور کے) بھی شامل کی جاتی ہیں اور کیلشیئم، میگنیسیم، فولاد اور زِنک جیسی معدنیات بھی۔

Getty Imagesانسانی دودھ نہ صرف بچے کی دودھ پینے کی عمر کے دوران بلکہ ایک دن، اور ایک خوراک کے دوران بھی اپنی خصوصیات بدلتا رہتا ہے

یہ بھی پڑھیے:

دودھ پلانا ماں کو کن بیماریوں سے بچا سکتا ہے

’ہر عورت کا دودھ نہیں اُترتا، بچے کو ڈبے کا دودھ پلانا امارت نہیں مجبوری ہو سکتی ہے‘

دودھ پلاتی ماڈل کی تصویر پر انڈیا میں شور

بدقسمتی سے ڈبے کے دودھ میں کچھ ناپسندیدہ کیمیائی اجزا بھی شامل ہو سکتے ہیں، جیسا کہ میرے معاملے میں ہوا تھا جب میرے خون کے نمونوں میں ایسے اجزا پائے گئے تھے۔

دھاتوں کا مرکب

سنہ 2017 میں امریکہ میں جب فارمولا مِلک کے کئی نمونوں میں جراثیم کش ادویات یا دیگر مضر اجزا کی موجودگی کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ 80 سے 86 فیصد نمونوں میں آرسینک پایا گیا۔ اس تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ سویا بین سے بنے فارمولا مِلک میں دوسرے خشک دودھ کے مقابلے میں سات گنا زیادہ کیڈمیئم پائی گئی جو کہ ایک ایسی دھات ہے جو بیٹریوں میں ڈالی جاتی ہے۔

دو برس بعد ’کلین لیب پراجیکٹ‘ کے تحت ایک مرتبہ پھر تحقیق کی گئی تو نوزائیدہ بچوں کے دودھ کی 91 مختلف اقسام میں سخت دھاتیں پائی گئیں۔

اس تحقیق کی رپورٹ کلین لیب پراجیکٹ کی ڈائریکٹر اور حیاتیاتی ماحولیات کی ماہر، جیکی بوون اور ان کے کچھ ساتھیوں نے مرتب کی تھی۔ وہ تب سے امریکہ میں ان مضر صحت چیزوں کے حوالے سے زیادہ شفافیت کے لیے مہم چلا رہی ہیں جو ہماری خوراک اور بچوں کے خشک دودھ تک پہنچ جاتی ہیں۔ جیکی بوون کے مطابق امریکہ میں فُوڈ سیفٹی کے قوانین کے اطلاق کے باوجود ایسی مضر صحت چیزیں خوراک میں پائی جاتی ہیں کیونکہ قوانین کے تحت ماہرین کی توجہ صرف خوردبین سے نظر آنے والے جراثیموں تک محدود رہتی ہے جن سے ہاضمہ خراب ہونے (فُوڈ پوائزنگ) کا خطرہ ہوتا ہے۔

تاہم، سرکاری حکام کا اصرار ہے کہ وہ بچوں کی خوراک میں دھاتوں کی موجودگی کے مسئلے پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ مثلاً فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ( ایف ڈی اے)کا کہنا ہے کہ وہ ننھےبچوں کی خوراک میں زیریلے مادوں کے حوالے سے مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کے لیے وہ مختلف کمپنیوں اور دیگر متعلقہ افراد کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

لیکن جیکی بوون کہتی ہیں کہ آئے روز 'لوگوں میں فکرمندی بڑھ رہی ہے کہ جب تک انھیں اپنی خوراک اور کینسر جیسے امراض کے درمیان تعلق کے بارے میں کچھ معلوم ہوتا ہے، اس وقت تک کئی عشرے گزر چکے ہوتے ہیں۔‘

جہاں تک کیڈمیئم اور سیسہ جیسی سخت دھاتوں کا تعلق ہے تو یہ چیزیں زمین کے اندر قدرتی طور پر موجود ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو خوراک سے مکمل ختم کرنا ناممکن کام ہے لیکن جیکی بوون کہتی ہیں کہ 'کان کنی، چٹانوں سے تیل نکالنا، صنعتی پیمانے پر زراعت اور آبپاشی کے لیے گندے پانی کا استعمال، یہ ایسے کام ہیں جن سے ہوا، پانی اور مٹی میں مضرِ صحت دھاتوں وغیرہ کے شامل ہونے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری خوراک میں موجود خوردبینی جراثیم تو کھانا پکانے کے دوران مر جاتے ہیں، لیکن اپنی خوراک سے سخت دھاتوں وغیرہ کو نکالنے کا کوئی طریقہ نہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ مسئلے کو جڑ سے اکھاڑا جائے، یعنی فصلیں اور سبزیاں اگانے کے لیے جو مٹی استعمال کی جائے وہ صاف ہو اور اس میں کوئی مضر صحت دھات وغیرہ نہ شامل ہو۔ فارمولا مِلک میں نظر آنے والے اجزا کی ابتدا بہرحال کسی کھیت یا جانور سے ہوتی ہے۔

’اگر آپ واقعی اعلیٰ معیار کی تیار خوراک کھانا چاہتے ہیں، تو وہ اعلیٰ معیار کے اجزا سے آتی ہیں۔ یہ خوراک صحت مند اور غذائیت سے بھرپور مٹی سے آتی ہے، یہ ایک ایسی ماحولیاتی پالیسی سے بنتی ہے جو اتنی زیادہ آلودگی کی اجازت نہ دے۔'

جیکی بوون سمجھتی ہیں کہ خشک دودھ کی کچھ اقسام ایسی ہیں جن میں سخت دھاتوں کی موجودگی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ مثلاً گائے کے دودھ کے بجائے سویا بین سے بنائے جانے والا فارمولا مِلک۔

Getty Imagesبرازیل کے دور دراز طبی مراکز میں ایمازون کے قدیم قبائل کی خواتین بھی اپنی اور اپنے بچوں کی صحت کی سہولیات سے مستفید ہو رہی ہیں۔

ڈبے کے دودھ میں مضر صحت اجزا کی موجودگی صرف ایک مسئلہ ہے۔ پاؤڈر سے دودھ بنانے کے لیے آپ کو پانی بھی درکار ہوتا ہے، اور ضروری نہیں کہ آپ جو پانی استعمال کر رہے ہوں وہ ہر قسم کے جراثیموں سے پاک ہو۔

ماں کے دودھ میں موجود مائیکروبائیوم

گذشتہ کچھ برس میں بچے کی صحت میں انسانی مائیکروبائیوم کے کردار کے حوالے سے آگاہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مائیکروبائیوم ان نہ دکھائی دینے والے خوردبینی جرثوموں کو کہتے ہیں جو ہمارے جسم کے اندر اور ہماری جلد پر پھلتے پھولتے ہیں۔ یہ ہمارے نظام ہضم میں بھی پائے جاتے ہیں۔

لندن میں مقیم نوزائدہ بچوں کی خوراک کی ماہر، ایملی بلوکسم کے مطابق اگرچہ غذائیت کے لحاظ سے اب فارمولا مِلک ترقی کرتے کرتے ماں کے دودھ کے قریب پہنچ گیا ہے، تاہم بچے کے معدے میں مائیکروبائیوم پیدا کرنے میں مرکزی کردار ماں کا دودھ ہی ادا کرتا ہے۔ ماں کے دودھ میں شامل وہ اجزا (مثلاً اینٹی باڈیز اور اچھے بیکٹیریا)جو بچے میں مائیکروبائیوم پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں، ہم ابھی تک وہ اجزا مصنوعی طریقے سے پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوئے ہیں۔

' بائفائڈو بیکٹریا ایک ایسا اچھا بیکٹیریا ہے جو ماں کے دودھ میں موجود ہوتا ہے اور یہ بچے کی زندگی کے پہلے ایک ہزار دنوں اس کے معدے میں جمع ہو جاتا ہے اور اس کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے علاوہ بچے کو دمہ، خشک جلد (ایگزیما) اور نظام ہضمکی خرابی سے محفوظ رکھتا ہے۔‘

آجکل کچھ فارمولا مِلک ایسے بھی دستیاب ہیں جن میں پری بائیوٹِک اور پروبائیوٹِک، دونوں قسم کے اجزا شامل ہوتے ہیں جو خشک دودھ کو ماں کے دودھ کے قریب تر بنا دیتے ہیں۔ تاہم، ڈبے کے دودھ میں ان اجزا کے اضافے کے باوجود، ماں کے دودھ میں ایک ایسی خاص صلاحیت پائی جاتی ہے جو فارمولا ملک میں نہیں ملتی، اور وہ یہ کہ ماں کا دودھ مسلسل تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسی لیے بلوکسم کہتی ہیں کہ ماں کے دودھ میں ان اجزا کی موجودگی اور مقدار کا انحصار مختلف چیزوں پر ہوتا ہے، مثلاً ماں کی جِینز، ماں کا تعلق دنیا کے کس علاقے سے ہے، وہ عمر کے کس حصے میں ہے اور اس کی اپنی خوراک کیسی ہے۔ یہاں تک کہ بچے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ماں کے دودھ کی طرح مصنوعی دودھ میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔

لیبارٹری میں بنا ہوا دودھ ؟

ماں کے دودھ کی کچھ خصوصیات کی نقل تیار کرنے کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ انسانی دودھ بنانے والے خلیوں کو کسی لیبارٹری میں بنا لیا جائے۔ سائنسدانوں نے اس حوالے سے تحقیق شروع کر دی ہے۔

خلیوں کی بائیولوجی کی ماہر، لیلا سٹرکلینڈ نے کچھ ہی عرصہ پہلے امریکی ریاست نارتھ کیرولائنا میں 'بائیومِلگ' کے نام سے ایک کمپنی قائم کی ہے۔ لیلا کو یہ خیال اس وقت آیا جب انھیں اپنے پہلے بچے کے لیے اپنے جسم میں کافی مقدار میں دودھ پیدا کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

لیلا سٹرکلینڈ کی ٹیم خواتین کی چھاتیوں کے خلیے اور ان کے دودھ کو ملا کر ایک بوتل میں دودھ 'اگاتی' ہے۔ بوتل میں خلیوں کی نشونما کے لیے مختلف غذائی اجزا اور وٹامِنز ڈالے جاتے ہیں۔ پھر ان بوتلوں کو بائیو ری ایکٹر میں رکھا دیا جاتا ہے جہاں بوتل میں موجود خلیوں سے وہ اجزا نکلنا شروع ہو جاتے ہیں جو انسانی دودھ میں ہوتے ہیں، یعنی بوتل میں دودھ کی مقدار بڑھنے لگتی ہے۔

اپنی لیبارٹری میں یوں بنائے جانے والے دودھ کو بازار میں لانے میں کمپنی کو ابھی مزید چند سال کام کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ کمپنی کو اس دودھ میں وہتنوع لانے میں بھی وقت لگے گا جو ماں کے دودھ میں ہوتا ہے اور ہر ماں کے اپنے بچے کی ضروریات کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔

لیبارٹری میں انسانی دودھ پیدا کرنے کے لیے دنیا کی کئی دیگر بائیو ٹیک کمپنیاں بھی کام کر رہی ہیں اور اگر یہ تجربات کامیاب ہو جاتے ہیں تو آنے والے دنوں میں فارمولا مِلک کے بارے میں ہماری سوچ تبدیل ہو سکتی ہے۔ مثلاً سنگاپور میں 'ٹرٹل ٹری لیبز' نامی کمپنی مختلف دودھ دینے والے جانوروں (بمشول گائے، بھیڑ، بکری، اونٹنی) کے خلیے اور دودھ لیکر لیبارٹری میں دودھ 'اگانے' کی کوشش کر رہی ہے۔

اسی طرح نیویارک میں ’ہلینا‘ نامی ایک نئی کمپنی تخمیر (فرمنٹیشن) کے ذریعے انسانی دودھ میں پائی جانے والی لحمیات (پروٹین) پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کمپنی کا خیال ہے کہ ان پروٹینز کو فارمولا مِلک میں شامل کر کے ایسا دودھ بنایا جا سکے گا جو انسانی دودھ کے قریب تر ہو سکتا ہے۔ لیبارٹری میں بنائے جانے والے اس دودھ کو ننھے بچوں کی دیگر خوراک میں بھی ڈالا جا سکے گا۔

Getty Imagesکولمبیا میں ماں کے دودھ کی افادیت کے حوالے سے خواتین کے لیے خصوصی میلے بھی منعقد کیے جاتے ہیں

لیکن، فیوٹرل کے خیال میں چونکہ ماں کے دودھ میں مسلسل تبدیلیاں آتی رہتی ہیں اور اس کے کچھ اجزا کو ہمیں ابھی تک پوری طرح سمجھ نہیں پائے ہیں، اس لیے ان تمام کمپنیوں کے سامنے ایک ایسا ہدف ہے جو اپنی جگہ بدلتا رہتا ہے۔

’ہم خاصی کامیابی سے ایسا فارمولا مِلک بنا سکتے ہیں جو بچے کو مناسب اور محفوظ نشوونما فراہم کرے تاکہ بچہ ہماری توقع کے مطابق پھلے پھولے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ برسوں میں ڈبے والے دودھ کی ترکیب میں بہتری آئی ہے تاکہ بچے کی نشوونما ویسی ہی ہو جیسے ماں کے دودھ سے ہوتی ہے۔ تاہم، میرا خیال یہ ہے کہ ماں کے دودھ کے 'غیر غدائی' اجزا ایسے ہیں جن کی ہم کبھی بھی نقل نہیں بنا سکیں گے کیونکہ یہ ایک ناممکن کام ہے۔‘

جہاں تک میرے اپنے جسم میں پائے جانے والے زیریلے مادوں اور ان خدشات کا تعلق ہے کہ یہ چیزیں میرے دودھ میں چلی گئی ہوں گی، تو اس حوالے سے بلوکسم نے مجھے تسلی دی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'جہاں تک ممکن ہو گا، میں آپ کی حوصلہ افزائی کروں گی کہ آپ بچے کو اپنا دودھ ہی دیں کیونکہ ماں اور بچے کے لیے اس کے فوائد آپ کے خدشات سے کہیں زیادہ ہیں۔'

’اس یقین دہانی کے باوجود مجھے لگتا ہے کہ میں واحد ماں نہیں ہوں جسے اپنے دودھ میں مضر صحت اجزا کی موجودگی کا خدشہ ہو۔‘

ماضی میں ڈاکٹری کے شعبے سے منسلک رہنے والی اور اب ریاست کیلیفورنیا میں 'لیکٹیشن لیب' نامی کمپنی کی بانی، سٹیفنی کینالی ان دنوں ایک منصوبے پر کام کر رہی ہیں جس کا مقصد ماں کے دودھ کے غذائی اجزا اور قدرتی ماحول میں پائے جانے والے زہریلے مواد پر تحقیق کرنا ہے۔

مختلف مائیں اپنے دودھ کے نمونے سٹیفنی کینالی کو بھجواتی ہیں تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ ان کے دودھ میں کتنی غذائیت ہے، معدنیات اور وٹامِنز کتنی ہیں۔ ان خواتین کا خیال ہے کہ اپنے دودھ کے تجزیے کے بعد یہ مائیں اپنی خوراک میں تبدیلی کر کے اپنے بچوں کو زیادہ غذائیت والا دودھ دے سکیں گی۔

سٹیفنی کینالی کہتی ہیں کہ ’جب ہم ننھے بچے کی نشونما کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمیں پیدائش سے بچے کو ملنے والی وٹامِنز سے لے کر دودھ پلانے کے دنوں میں ماں کی خوراک، اور اس خوراک کو بھی دیکھنا چاہیے جو بچہ دودھ چھڑانے تک کھاتا ہے۔ ڈبے کا دودھ ان میں سے صرف ایک چیز ہے، اس لیے ہمارے لیے دوسری چیزوں کو دیکھنا بھی ضروری ہے۔‘

'ہمیں ان چیزوں کو بحثیت مجموعی دیکھنا چاہیے۔ میرا تعلق کینڈا سے ہے لیکن مجھے اب بھی یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ڈبے کے دودھ اور چھوٹے بچوں کی دوسری امریکی چیزوں میں ہائی فرکٹوز والا کارن سِیرپ کتنا زیادہ ہوتا ہے۔ بچوں کی خوراک میں تبدیلی کے لیے ماؤں کو مہم چلانا ہوگی۔ انھیں یہ کہنا ہوگا کہ ہمیں بچوں کی خوراک کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کی جائیں، خاص طور پر ڈبے والے دودھ کے بارے میں، کیونکہ ہمارا بچہ روزانہ یہی چیزیں کھاتا ہے۔ اگرچہ ماں کے دودھ کی طرح فارمولا مِلک میں ہر روز تبدیلی نہیں لائی جا سکتی لیکن ہمیں یہ تو پتہ ہونا چاہئے کہ ڈبے والے دودھ میں کیا کچھ شامل ہے۔'

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More