برین چِپ: ایک انقلابی قدم جس سے بہتر، تیز تر اور سستے وکیل دستیاب ہوں گے

بی بی سی اردو  |  Aug 16, 2022

برطانیہ میں وکلا کی پیشہ ورانہ تنظیم ’لا سوسائٹی‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وکیلوں کے دماغ میں ایک کمپیوٹر چِپ لگائی جا سکے گی جس سے کیس کے اخراجات کم ہو سکتے ہیں اور پیچیدہ مقدمات کے حل کے لیے وکیل بھی کم تعداد میں درکار ہوں گے۔

شعبۂ قانون میں یہ ایک انقلابی قدم ہوگا۔

’نیوروٹیکنالوجی، لا اینڈ دا لیگل پروفیشن‘ نامی یہ رپورٹلا سوسائٹی آف انگلینڈ اینڈ ویلز کی درخواست پر ڈاکٹر ایلن میککے نے مرتب کی ہے۔

آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف سڈنی کے لا سکول سے وابستہ ڈاکٹر میککے نے اس رپورٹ میں لیگل پروفیشن یا قانون کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ہونے والے ممکنہ فوائد پر بحث کی ہے۔

وکیلوں کے لیے نیوروٹیکنالوجی متعارف کروانے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ کارپوریٹ کلائنٹس یا کاروباری موکل ایسی چِپ لگائے جانے پر یہ کہہ کر زور دیں گے کہ یہ کارکردگی بہتر بناتی ہے۔

اس کے نتیجے میں وکلا کو جو 1500 پاؤنڈ فی گھنٹے کے حساب سے فیس لیتے ہیں اپنی فیس ’بِل ایبل یونٹس آف اٹینشن‘ کے حساب سے لینی ہو گی، یعنی انھوں نے کسی کیس پر کام کرنے یا اس کے بارے میں سوچنے پر حقیقی معنوں میں کتنا وقت صرف کیا ہے۔ گویا انھیں فیس کی ادائیگی گھڑی میں وقت کے بجائے دماغ سے جڑے ایک میٹر کے مطابق کی جائے گی۔

انگلینڈ اور ویلز میں وکیلوں کے پیشہ ورانہ امور کی ذمہ دار لا سوسائٹی نے حال ہی میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا ہے کہ ایسی دماغی چِپ یا اِمپلانٹ قانونی شعبے کے لیے ’مستقبل کا آئی فون‘ ہو گا۔

پیچیدہ مقدمات نمٹانے کے لیے وکیلوں کی بڑی ٹیم کی ضرورت نہیں رہے گی، بلکہ ایک چِپ کا حامل سُپر وکیل ہزاروں دستاویزات اور مقدمے کے مختلف پہلوؤں سے متعلق تفصیلات کو بہت کم میں وقت کھنگال کر اس کے اہم نکات اور دلائل مرتب کر سکے گا۔

گھنٹے کے حساب سے وکیلوں کی فیس ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔ اگرچہ ملٹی نیشنل کمپنیاں وکلیوں کی بھاری فیس کو کاروبار کا حصہ سمجھ کر برداشت کر لیتی ہیں مگر ٹیکنالوجی کی مدد سے قانونی اخراجات میں کمی ان کمپنیوں کے اعلیٰ افسران کے لیے یقیناً کشش کا باعث ہوگی۔

لا سوسائٹی کا کہنا ہے کہ وکیل ایک دوسرے کے مقابلے میں بہتر خدمات پیش کرنے اور اپنے مدِ مقابل پر فوقیت حاصل کرنے کے لیے نیوروٹیکنالوجی استعمال کر کے مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانا چاہیں گے۔

رپورٹ کے مطابق نئی ٹیکنالوجی اپنانے کے لیے دباؤ مؤکلوں کی طرف سے پڑے گا۔ ’انسان ان تبدیلوں کا تصور کر سکتا ہے جو دھیان یا توجہ کا حساب رکھنے کی اہل ٹیکنالوجی لا سکتی ہے۔ اس طرح فی گھنٹہ فیس کے بدلے فی دورانیۂ توجہ فیس چارج ہو گی۔‘

ڈاکٹر میککے کہتے ہیں کہ دنیا کی امیر ترین آدمی ایلن مسک گذشتہ آٹھ برس سے نیوروٹیکلنالوجی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ ٹیکنالوجی آ رہی ہیں، ہمیں اس کے قواعد و ضوابط کے بارے میں سوچنا ہے۔‘

وکیل اور مصنف رچرڈ سسکائنڈ کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھے گا، اور بعض آے آئی سسٹم تو پہلے ہی بعض کاموں میں جونیئر وکیلوں پر سبقت حاصل کر چکے ہیں، مثال کے طور پر کاغذات کی جانچ پڑتا وغیرہ۔ ان کا کہنا تھا کہ 'آگے چل کر تو ہم سب کی ڈیجیٹل کارکردگی میں اضافہ ہو گا۔ سوال صرف یہ ہے کہ یہ پروسِسنگ اور سٹوریج ہمارے جسم کے اندر ہوگی یا باہر۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More